کراچی: ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے علاقائی تنازعات، موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی مالی حالات میں سختی پاکستان سمیت مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور افغانستان کی معیشتوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
ورلڈ بینک کی گلوبل اکنامک پروسپیکٹس جنوری 2026 کے مطابق اگرچہ 2025 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی نمو توقعات سے بہتر رہی، مگر مستقبل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مسلح تنازعات کی شدت، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، شدید موسمی واقعات، تیل اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالی سختی خطے کی کمزور معیشتوں کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ملک شدید خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلاب، ہیٹ ویوز اور دیگر موسمی جھٹکوں نے زراعت، بنیادی ڈھانچے اور مالیاتی شعبے کو نقصان پہنچایا ہے۔ موسمیاتی آفات کی شدت اور تعداد میں اضافے کے باعث افراطِ زر، معیشت کی سست روی اور مالی دباؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان کی صورتحال کے باعث سرحد پار عدم استحکام، مہاجرین کے دباؤ، تجارتی رکاوٹیں اور سیکیورٹی اخراجات پاکستان کی مالی حالت پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی تجارتی راستوں، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور اجناس کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات محدود ہو جائیں گے۔
ورلڈ بینک کے مطابق شدید موسمی واقعات، جیسے سیلاب، فصلوں کی تباہی، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو نقصان اور حکومتوں کو ہنگامی امداد پر وسائل خرچ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ پاکستان میں مالی سال 2026-27 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کا امکان ہے، جس کی وجہ درآمدات میں اضافہ اور سیلاب کے بعد ترسیلات زر میں معمول پر آنا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے لیے محصولات میں اضافہ، اخراجات پر کنٹرول، ادارہ جاتی اصلاحات اور موسمیاتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا گیا اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ موسمیاتی تبدیلی اور عدم استحکام سے متاثرہ ممالک کی مالی اور تکنیکی مدد کو مضبوط کرے۔







