واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے حملے اور میٹا کی امید

پاکستان میں سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ایپس کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی سائبر جرائم میں بھی خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بالخصوص پی ٹی اےکے مطابق واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے واقعات نے صارفین کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔ جعلساز مختلف حیلوں بہانوں سے صارفین سے او ٹی پی حاصل کرکے ان کے اکاؤنٹس پر قبضہ جما لیتے ہیں اور پھر متاثرہ شخص کے رابطہ نمبروں سے رقم طلب کر کے مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر پریشانی کا باعث ہے بلکہ ڈیجیٹل معیشت اور آن لائن لین دین کے نظام کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔
اسی تناظر میںپی ٹی اےاورمیٹاپلیٹ فارمزکے اشتراک سے’’میٹا او ٹی پی‘‘کے نام سے نیا سیکیورٹی نظام متعارف کرانے کا فیصلہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس نئے نظام کے تحت ڈبل او ٹی پی فیچر متعارف کیا جائے گا۔ اگر پہلا او ٹی پی کسی طرح ہیکرز تک پہنچ بھی جائے تو تین منٹ بعد دوسرا او ٹی پی خودکار طور پر جاری ہوگا، جس سے غیر مجاز رسائی کو روکا جا سکے گا۔ مزید یہ کہ اگر صارف کو شبہ ہو کہ اس کا او ٹی پی لیک ہو گیا ہے تو وہ نئے آپشن کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی دوبارہ حاصل کر سکے گا۔یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پاکستان کو اس نظام کے آغاز کے لیے بطور پہلا ملک منتخب کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ یہاں سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے، مگر ساتھ ہی یہ اعتماد بھی جھلکتا ہے کہ مقامی ریگولیٹر اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنی باہمی تعاون سے مؤثر حل نکال سکتے ہیں۔ اگر یہ ماڈل کامیاب رہا تو اسے دیگر ممالک میں بھی مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف تکنیکی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ سائبر جرائم کی بڑی وجہ صارفین کی لاعلمی اور سادہ لوحی بھی ہے۔ اکثر لوگ نامعلوم کالز یا پیغامات پر موصول ہونے والا او ٹی پی بغیر تصدیق کے شیئر کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی ایک کوڈ ان کے اکاؤنٹ کی کنجی ہوتا ہے۔ لہٰذا آگاہی مہم چلانا بھی ناگزیر ہے تاکہ صارفین کو بتایا جا سکے کہ کسی بھی صورت میں اپنا او ٹی پی کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ریاستی اداروں کو چاہیے کہ سائبر کرائم ونگ کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو بھی مزید محفوظ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ہیک شدہ اکاؤنٹ کے ذریعے مالی دھوکہ دہی کے امکانات کم سے کم ہوں۔مجموعی طور پر ’’میٹا او ٹی پی‘‘کا اجرا ایک مثبت قدم ہے جو آن لائن فراڈ میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ مگر حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ٹیکنالوجی، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خود صارفین مل کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ڈیجیٹل دور میں تحفظ صرف نظام کی نہیں بلکہ شعور کی مضبوطی سے بھی وابستہ ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں