ملتان ( سٹاف رپورٹر ) این ایف سی انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے ایکٹ 2012 سیکشن 12(2) کے مطابق (2) وائس چانسلر کے طور پر تقرری کے لیے موزوں امیدواروں کی سفارش کے لیے ایک سرچ کمیٹی سینیٹ کی طرف سے تاریخ اور طریقہ کار کے مطابق تشکیل دی جائے گی اور یہ سوسائٹی کے دو نامور ارکان پر مشتمل ہو گی جنہیں چانسلر کے ذریعے نامزد کیا جائے گا۔ ایک کو کنوینر مقرر کیا جائے گا، دو ممبران سینیٹ، دو ممتاز انسٹی ٹیوٹ اساتذہ جو سینیٹ کے ممبر نہیں ہیں اور ایک ماہر تعلیم جو انسٹی ٹیوٹ میں ملازم نہ ہو۔ انسٹی ٹیوٹ کے دو ممتاز اساتذہ کا انتخاب سینیٹ کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا جو عام طور پر انسٹی ٹیوٹ کے اساتذہ کے ذریعہ موزوں ناموں کی سفارش کے لئے فراہم کرتا ہے۔ سرچ کمیٹی اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اگلے وائس چانسلر کی تقرری چانسلر کے ذریعے نہیں کی جاتی۔ جبکہ این ایف سی یونیورسٹی ایکٹ 2012 کے سیکشن 12(3) کے مطابق وائس چانسلر کے طور پر تقرری کے لیے سرچ کمیٹی کی طرف سے تجویز کردہ افراد پر سینیٹ غور کرے گا اور ان میں سے تین کا ایک پینل ترجیحی ترتیب میں سینیٹ کی طرف سے چانسلر کو تجویز کیا جائے گا: بشرطیکہ چانسلر تجویز کردہ تین افراد میں سے کسی کی تقرری کرنے سے انکار کر دے اور نئے پینل کی سفارش طلب کرے۔ چانسلر کی جانب سے تازہ سفارش طلب کیے جانے کی صورت میں سرچ کمیٹی مقررہ طریقے سے سینیٹ کو تجویز پیش کرے گی۔ این ایف سی یونیورسٹی ایکٹ کے سیکشن 12(4) کے مطابق وائس چانسلر کا تقرر قانون کے ذریعے طے شدہ شرائط و ضوابط پر چار سال کی صرف ایک بار قابل تجدید مدت کے لیے کیا جائے گا۔ موجودہ وائس چانسلر کی مدت ملازمت کی تجدید چانسلر کے ذریعہ اس طرح کی تجدید کی حمایت میں سینیٹ کی قرارداد کی وصولی پر کی جائے گی: بشرطیکہ چانسلر سینیٹ سے ایسی قرارداد پر ایک بار نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کر سکے۔حیران کن طور پر وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ صرف قائم مقام وائس چانسلر تعینات ہوئے مگر سیاسی وابستگی اور این ایف سی یونیورسٹی ایکٹ میں دھوکہ دہی کے ذریعے اپنے ناجائز قبضے کو طول دیتے ہوئے خود کو ہی تعینات کرنے کی خاطر دوبارہ بغیر کسی متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کے بغیر اخبار اشتہار دینا ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو اور ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کی طرف سے این ایف سی یونیورسٹی ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔






