نیکی اوربدی کی جنگ،’’قوم‘‘ کاسپریم کورٹ سے رجوع کا عندیہ

نیکی اوربدی کی جنگ،’’قوم‘‘ کاسپریم کورٹ سے رجوع کا عندیہ

تحقیقاتی افسران کی سہولت کاری ، سینکڑوں ثبوت ،پولیس رپورٹ تبدیل، پروفیسر ابوبکر کو کلین چٹ
یونیورسٹی کی بربادی کے مرتکب ڈاکٹر اطہرمحبوب و دیگربارے سپریم کورٹ سے رجوع پرہی کوئی امید
’’قوم‘‘ کاپنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کی روشنی میں اپنےموقف کا دفاع کافیصلہ

ملتان(سٹاف رپورٹر)اسلامیہ یونیورسٹی جنسی ہراسمنٹ سکینڈل میں تحقیقاتی افسران کی سہولت کاری اور سینکڑوں کی تعداد میں دستیاب ثبوتوں کو مقدمہ کی فائل سے علیحدہ کئے جانے، پولیس تفتیش رپورٹ تبدیل کئے جانے اور ملوث پروفیسر ابوبکر کو کلین چٹ ملنے کے بعد یہی واحد راستہ باقی رہتا ہے کہ روزنامہ قوم انتظامیہ جس نےاس تمام معاملے پر ذمہ داری سے رپورٹنگ کی تھی اپنا اخلاقی، قانونی اور پاکستانی شہری حامل ہونے کے ناطے سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرے اور باقاعدہ درخواست دے کر پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کی روشنی میں اپنے موقف کا دفاع کرے۔ اس سلسلے میں روزنامہ قوم کی لیگل ٹیم نے مطلوب ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی این ایف سی یونیورسٹی کے معاملے پر سابق وی سی کے خلاف وائس چانسلر تقرری کیس میں روزنامہ ’’قوم‘‘میں شائع شدہ مواد کی روشنی میں ایک پروفیسر نے سی ایم دائر کر کے سپریم کورٹ کو دستیاب مواد اور حقائق سے آگاہ کیا تھاجس پر سابق چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں نہ صرف ڈاکٹر اختر کالرو کو برطرف کر دیا تھا بلکہ انہیں چھ سال تک غیر قانونی اور ناجائز طور پر لی گئی تنخواہیں اور مراعات بھی واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسلامیہ یونیورسٹی کی بربادی کے مرتکب ڈاکٹر اطہر محبوب جو کہ ذرائع کے مطابق سندھ کی کسی یونیورسٹی میں تعینات ہیں ان کے معاملات اور دیگر پروفیسرز و یونیورسٹی سٹاف کے معاملات بحوالہ دستیاب معلومات سپریم کورٹ سے رجوع کرنے سے ہی کوئی امید بر لائی جا سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں