ملتان(کرائم رپورٹر) تھانہ نیو ملتان کے علاقہ میں جعلی اور ملاوٹ شدہ آئل کا دھندہ کر نے والے سودخور ملک واجد ڈمرایا کی طرف سے سود خوری کیلئے گزشتہ سال مختلف اوقات میں درج کرائے گئے چیک ڈس آنر کے مقدمات ملتان میں تعینات سابق ایس پی حسن رضا کھاکھی کی مداخلت پر درج کئے گئے اور ان کے سگے بھائی زاہد کھاکھی نے از خود سود خور کے ساتھ تھانہ نیو ملتان میں بیٹھ کر تینوں مقدمات مختلف اوقات میں درج کرائے اور پھر ایف آئی آر ز کو خفیہ رکھا۔ اس سودخور کے سہولت کار سب انسپکٹر محمد رمضان نے اس سے قبل ایک ایف آئی آر میں حاجی اطہر ولد محمد حسین کو پکڑ کر حوالات میں بند رکھا اور گرفتاری نہ ڈالی جس پر ورثا سے ڈیل ہوئی اور ورثا نے 15 لاکھ روپے ادا کر کے سابق ایس ایچ او محمد شفیق اور سب انسپکٹر کی موجودگی میں سود خور واجد کو ادا کیا۔ بتایا گیا ہے کہ سود خوری کی ریکوری کا تھانہ نیو ملتان کا ریٹ40 فیصد ہے جبکہ دیگر اخراجات بھی مدعی مقدمہ ہی کے ذمے ہوتے ہیں۔15 لاکھ تھانہ نیو ملتان کی چار دیواری میں ادا کئے جانے کے باوجود بھی مقدمہ ابھی تک ختم نہیں ہوا اوراب پولیس سود کی باقی رقم کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس طرح پولیس ایک شخص انعام الحق بھٹی سے بھی سود کی مد میں50 لاکھ وصول کر کے ملک واجدڈمرایاکو دلوا چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملک واجد کا سہولت کار اس کا ایک رشتے دار وسیم عباس ہے جو کہ ایران تیل کی سمگلنگ کا کاروبار کرتا ہے اور اس نے ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے۔
