وہاڑی( کرائم سیل) اسسٹنٹ کمشنر میلسی کا چارج لیتے ہی اوور چارج ہونے والے سعد بن خالد نامی انتظامی آفیسر نے مقامی پی ایچ ڈی پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ کو ان کی اراضی سے ملحقہ سرکاری اراضی نیلامی میں حاصل کرنے کی پیشکش سے انکار کرنا مہنگا پڑ گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کے حکم پر مذکورہ پروفیسر کو دھکا دے کر ڈالے میں بٹھایا گیا۔ ساڑھے تین گھنٹے تک ایک کمرے میں حبس بے جا میں رکھا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ روز سرکاری زمین کی نیلامی تھی مگر بولی میں جب کوئی بھی حصہ لینے نہ آیا تو اے سی میلسی سعد بن خالد سرکاری گاڑی پر مذکورہ زمین کے ساتھ والے رقبہ پر پہنچ گئے اور وہاں جا کر پی ایچ ڈی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ جو کہ ملحقہ زمین کا سودا کر رہے تھے، کو اپنے پاس بلایا اور کہا آج اس اراضی سے ملحقہ اراضی کی بولی ہے۔ آپ کے ساتھ والی زمین بنتی ہے لہٰذاآپ اس نیلامی میں حصہ لیں۔ ڈاکٹر مصطفیٰ نے انکار کیا کہ میں اس میں دلچسپی نہیں رکھتا آپ کسی اور کو دے دیں۔ یہ سنتے ہی اے سی سیخ پا ہو گئے اور عملے کو حکم دیا کہ ڈاکٹر کو ڈالے میں ڈالو جس پر تین نامعلوم افراد انہیں اغوا کیا اور حبس بے جا میں رکھا۔ نامعلوم جگہ بٹھا کر فوری 7 لاکھ منگوانے کا مطالبہ کیا جبکہ ان سے اے ٹی ایم کارڈ کا کوڈ بھی پوچھا گیا۔ اس زبردستی کی اطلاع پا کر میلسی کے چند وکلا اور پروفیسر غلام مصطفی کے شاگرد طلبااے سی دفتر پہنچے تو ڈاکٹر مصطفیٰ کو حبس بے جا سے بازیاب کروایا گیا ۔ڈاکٹر مصطفیٰ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ انتہائی ناروا رویہ اختیار کیا گیا اور 7 لاکھ کا مطالبہ کیا کہ مجھے دیں میں رقبہ الاٹ کرتا ہوں۔ اس پرجب اے سی صاحب سے موقف لینے کی کوشش کی تو وہ دوسرے دروازے سے باہر نکل گئے اور فون بند کر لیا ۔کچھ دیر بعد نمبر آن کیا تو کہا کہ میں دفتر آ رہا ہوں اپنا موقف دیتا ہوں لیکن رات گئے وہ دفتر نہ آئے۔ ڈاکٹر صاحب کی طرف اغوا اور جبس بے جا کی دفعات کے تحت قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کو درخواست دے دی گئی ہے۔







