ملتان (سٹاف رپورٹر) حکومتِ پاکستان نے سرکاری افسران اور اعلیٰ عہدیداران کے لیے اسٹاف کاروں کے استعمال سے متعلق جامع قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ یہ ہدایات کیبنٹ سیکرٹریٹ کے تحت کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کی گئی ہیں جن کا مقصد سرکاری وسائل کے مؤثر اور منظم استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ جاری کردہ قواعد کے مطابق سرکاری استعمال کے لیے اسٹاف کاروں کو انجن پاور کی بنیاد پر تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اسمال کارز وہ ہوں گی جن کی انجن پاور 1300 سی سی تک ہو، میڈیم کارز 1300 سی سی سے زائد اور 1600 سی سی تک جبکہ بگ کارز 1600 سی سی سے زائد انجن پاور کی حامل ہوں گی۔ مزید برآں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ غیر ملکی معززین، وفاقی و صوبائی وزراء، سپریم کورٹ کے معزز ججز اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے لیے مختص گاڑیاں لازمی طور پر ایئرکنڈیشنڈ ہوں گی۔ وزیراعظم پاکستان کی منظوری سے مختلف عہدوں کے لیے گاڑیوں کا استحقاق بھی ازسرِ نو مقرر کیا گیا ہے۔ قواعد کے مطابق وفاقی وزراء، وزرائے مملکت، مشیران اور وزیراعظم کے خصوصی معاونین (جنہیں وزارتی درجہ حاصل ہو) 1800 سی سی تک گاڑی استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔ سیکرٹری جنرل، وفاقی سیکرٹری، پارلیمانی سیکرٹری اور بی پی ایس 22 کے مساوی افسران کے لیے 1300 سی سی تک گاڑی کی اجازت ہو گی، جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری، سینئر جوائنٹ سیکرٹری اور بی پی ایس 21 اور 20 کے افسران کے لیے 1000 سی سی تک گاڑی مقرر کی گئی ہے۔ قواعد میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ وہ سینئر سرکاری افسران جن کے زیر استعمال گاڑی ان کے مقررہ استحقاق سے زائد انجن پاور کی ہے، وہ اسے قواعد کے مطابق تبدیلی کی مقررہ مدت تک استعمال کر سکیں گے، تاہم شرط یہ ہو گی کہ گاڑی 2003 سے پرانے ماڈل کی ہو۔ اسی طرح پٹرول کے ماہانہ استعمال کی حد بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ بی پی ایس 20 کے افسران کے لیے 180 لیٹر ماہانہ حد مقرر کی گئی ہے۔ بی پی ایس 21 کے افسران کو 1000 سی سی گاڑی کی صورت میں 180 لیٹر جبکہ 1300 سی سی (2003 سے پرانے ماڈل) گاڑی کی صورت میں 270 لیٹر ماہانہ پٹرول کی اجازت ہو گی۔ بی پی ایس 22 کے افسران کے لیے 360 لیٹر ماہانہ پٹرول کی حد مقرر کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ان قواعد کا بنیادی مقصد سرکاری گاڑیوں اور ایندھن کے استعمال میں شفافیت، کفایت شعاری اور نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے تاکہ قومی وسائل کا غیر ضروری استعمال روکا جا سکے اور سرکاری اخراجات کو ضابطے میں رکھا جا سکے۔







