ghost research papers, public universities, international journals, academic fraud, fake research, investor services, academic misconduct, research ethics, university scandals, academic integrity

نیادھوکا تعلیمی اداروں میں تھیسز،ریسرچ پیپرزآے آئی سے تیار،طلبہ پاس،ایچ ای سی فیل

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں ریسرچ پیپرز اور مقالہ جات میں سرقہ عام ہوتا جا رہا ہے جس کی بابت ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علم اپنے تھیسز اور ریسرچ پیپرز میں غیر قانونی ذرائع اور دھوکا دہی کے ذریعے ریسرچ کر رہے ہیں جس میں مختلف طرح کےآرٹیفیشل انٹیلی جنس(اے آئی) ورڈ سپنرز سافٹ ویئرز کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے طلبا و طالبات پرانے تھیسز اور ریسرچ پیپر انٹرنیٹ سے اٹھاتے ہیں اور پھر ان کو انٹرنیٹ پر دستیاب مختلف اےآئی ورڈ سپنرز سافٹ ویئر میں ڈالتے ہیں جو کہ تھیسز کی ورڈنگ چینج کر دیتا ہے اور وہ کسی بھی قسم کے پلیجرزم سافٹ ویئر یا turnitin پر نہیں پکڑے جا سکتے۔ عام طور پر تھیسز کی ورڈنگ کو CHAT GPT اےآئی سافٹ و یئر کے ذریعے پروفیشنل ریسرچ پیپرز کی لینگویج میں تبدیل کر لیا جاتا ہے اور پھر ان کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے آفس بھیج دیا جاتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں تبدیل شدہ ریسرچ پیپر میں کسی قسم کی پلیجرزم نہیں پائی جاتی اور پاکستان کے بیشتر طلبا و طالبات ان ریسرچ پیپرز اور تھیسز کی بنا پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لے کر مختلف یونیورسٹیز میں پروفیسر اور وائس چانسلر بھی بن بیٹھے ہیں۔ ریسرچ کے میدان میں یہ اخلاقی چوری اساتذہ کی جانب سے غیر ذمہ داری کی بابت سر انجام دی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ ملتان کی ایک یونیورسٹی کے برطرف وائس چانسلر نے بھی پروفیسر اور وائس چانسلر بننے سے قبل لاہور کے ایک نجی ادارے کے جرنل کو پیسے اور اس جرنل کے اس شمارے کے تمام کلر پرنٹنگ کے اخراجات بھی خود ادا کیے تھے اور اپنے ریسرچ پیپرز کی مطلوبہ تعداد کو پورا کر کے پروفیسر اور پھر بعد اذاں وائس چانسلر بن بیٹھے جنہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے بینچ نمبر 1 میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے نہایت افسردگی کا اظہار کیا کہ ایسے ایسے لوگ وائس چانسلر بنے بیٹھے ہیں جن کا تعلیم سے دور دور تک تعلق کوئی نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک مثال ملتان کی ہی ایک اور یونیورسٹی کی ہے جس میں وائس چانسلر ساری زندگی لائبریرین کے طور پر کام کرتے رہے اور انہوں نے آج تک کوئی کلاس نہ پڑھائی ہے۔ اس بارے میں جب یونیورسٹی کے ایک اہم انتظامی عہدےدار سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے ریسرچ پیپرز پورے ہیں۔ کلاس نہ پڑھانے کی بابت وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ چنانچہ ایسے وائس چانسلر حضرات کا پروفیسر بننا خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ وائس چانسلر کی کرسی پر تعینات کرنا اس ملک کے سسٹم پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ملتان کی ہی ایک بڑی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے تعلیم کے شعبے سے لا تعلقی کے بارے میں جب اس یونیورسٹی کے پی آر او سے پوچھا گیا تو ان کہنا تھا کہ اس بارے میں آپ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پوچھیں جنہوں نے ان کو وائس چانسلر لگایا ہے اور اس بابت تمام واٹس ایپ کمیونیکیشن روزنامہ قوم کے پاس محفوظ ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں