ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان سے لوٹ مار، رشوت و چوری کا اربوں روپیہ بیرون ملک بھجوانےکیلئےنگران دور میں منگوائی گئی 100 ارب روپے سے زائد کی گندم جو اوور انوائسنگ کے ذریعے تیسرے درجے کی غیر معیاری منگوائی گئی مگر قیمت اول درجے اور اعلیٰ کوالٹی کی دی گئی۔ اس غیر ضروری امپورٹ کی آڑ میں پاکستان سے تقریبا ً ً55 ارب روپیہ بیرون ملک منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کر لیا گیا اور یہ گندم کی ضروریات سے بھی زیادہ منگوا لی گئی تھی جو ابھی تک پڑی ہے اور اس وقت بلوچستان و پاسکو حکام 4100 روپے فی من کے حساب سے یوکرین، روس و دیگر ممالک سے منگوائی جانے والی گندم 1840 روپے پر بیچنے میں مجبور ہیں کہ یہ گندم اپنا رنگ بدل چکی ہے اور اس سے بنا ہوا آٹا بہت جلد خراب ہو کر کڑوا ہو جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچستان سے یہی غیر ملکی گندم ایک سو 30 فیصد کم نرخوں پر 1840 روپے فی من کے حساب سے فروخت کی گئی اور وہ بھی صرف دو فلور مل مالکان کو زبردستی فروخت کی گئی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال 35 لاکھ ٹن گندم منگوائی گئی تھی جو کہ ملکی ضروریات سے بہت زیادہ تھی اور حیران کن امر یہ ہے کہ یہ گندم اس وقت تک پاکستان میں آتی رہی جب پاکستان کی اپنی گندم پک چکی تھی اور مارکیٹ میں آچکی تھی۔ آج وہی غیر ملکی غیر معیاری گندم جس پر اربوں روپے زر مبادلہ خرچ کیا گیا اور جو پاکستان کو 4100 روپے فی من سے بھی زائد پڑی تھی حکومت گودام خالی کرنے کے لیے فروخت پر مجبور ہے مگر خریدار مارکیٹ میں موجود نہیں کیونکہ اس نے 2 ہزار روپے میں ملکی اعلیٰ کوالٹی کی گندم خرید لی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سسری اور کھپرے کی وجہ سے پرانی گندم کڑوی ہو جاتی ہے اور اس کا رنگ تبدیل ہو کر ذائقہ بھی بدل جاتا ہے جب کہ اس گندم کا آٹا زیادہ دنوں تک محفوظ بھی نہیں رکھا جا سکتا۔







