فوج کی سیاست میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے :ڈاکٹر عارف علوی
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا کہ 9 مئی کو نہ صرف پاکستان بلکہ ریاستی اداروں کے خلاف بھی بغاوت کی گئی۔شہباز شریف نے کہا کہ 9 مئی کی بغاوت دراصل اداروں اور پاکستان کے خلاف بغاوت تھی یہ پاکستان کے عوام کو تقسیم کرنے اور لڑانے کی ایک منظم سازش تھی ۔شہباز شریف نے کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود 9 مئی کے مجرموں کو تاحال سزا نہیں مل سکی آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیوں انہیں کٹہرے میں نہیں لایا جاسکا۔یہ وہ سوال ہے جو پوری قوم ان اداروں سے پوچھ رہی ہے جنہیں 9 مئی کے کرداروں کو سزا دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
ادھر عمران خان سے ملاقات کے بعد رؤف حسن اور عمر ایوب کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ عمران خان ساری قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں۔ میں نے بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لی ہیں۔ فوج کے اندر جو لوگ نومئی میں ملوث تھے صرف انہیں سزا دی گئی اسی طرح پی ٹی آئی کے بھی کچھ لوگ ملوث ہوسکتے ہیں مگر پوری پارٹی کرش کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) باجوہ نے جاتے جاتے کہا تھا اب فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں کیا ضرورت تھی پریس کانفرنس کی؟ آپ نے فوج کو بدنام کیا، الیکشن میں جو مینڈیٹ چھینا گیا اس کے ثبوت موجود ہیں فوج کے کچھ لوگ ملوث ہیں۔میں نے کل بھی کہا معافی مظلوم کو نہیں ظالم کو مانگنی چاہیے۔ فوج کی سیاست میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔سیاست آپ کا کام نام نہیں ہے۔یہ کہنا ملک کے ستر فیصد لوگ غلط ہیں چند لوگ صحیح ہیں یہ کہاں کی منطق ہے؟ یہاں جمہوریت کی نئی منطق پیش کی جارہی ہے۔ ستر فیصد لوگوں کے مینڈیٹ والوں سے بات کرنی پڑے گی، طاقت جس کے پاس ہے اسی کے ساتھ بات ہوسکتی ہے فارم 47 کی پیداوار حکومت کے ساتھ کیا بات کریں۔







