اگر انصاف بند کمرے میں ہو تو سزا مجرم کو نہیں، سچ کو ملتی ہے۔
اور جب سچ قید ہو جائے تو عدالتیں کھلی بھی ہوں تو اندھی رہتی ہیں۔
انصاف کا صرف ہونا کافی نہیں ہوتا، اس کا نظر آنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے، کیونکہ جب فیصلے عوام کی نظروں سے اوجھل رہیں تو شکوک، بداعتمادی اور قیاس آرائیاں خود بخود جنم لیتی ہیں۔ موجودہ حالات میں تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے خلاف مسلسل آنے والے فیصلوں نے اسی مسئلے کو شدت سے اجاگر کیا ہے۔ یہ مقدمات صرف عدالتی کارروائیاں نہیں بلکہ ریاست، سیاست اور عدلیہ کے باہمی تعلق کا امتحان بن چکے ہیں، اور بدقسمتی سے اس امتحان میں شفافیت بار بار ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
زیادہ تر مقدمات میں یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ انصاف ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ عدالتی کارروائیاں محدود رسائی کے ساتھ انجام پائیں، غیر جانب دار مبصرین کی موجودگی نہ ہونے کے برابر رہی، اور آزاد ذرائع ابلاغ کو ان کارروائیوں تک مؤثر رسائی حاصل نہ ہو سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نہ تو استغاثہ کے دلائل کو براہِ راست پرکھ سکے اور نہ ہی ملزمان کے دفاع کو سمجھ پائے۔ یوں فیصلہ عدالت کے کمرے سے زیادہ میڈیا کے شور میں سنایا گیا، جہاں حکومتی نمائندے ایک بیانیہ پیش کرتے رہے اور ملزمان کے وکلا اس کے بالکل برعکس تصویر دکھاتے رہے۔
جب عدلیہ پر عوامی اعتماد پہلے ہی کمزور ہو رہا ہو تو ایسے ماحول میں آنے والے فیصلوں کو غیر جانبدار سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں تحریک انصاف کی تقریباً پوری سینئر قیادت کو مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں، جن میں دہشت گردی، رشوت اور بدعنوانی جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو نو مئی کے واقعات سے متعلق الگ الگ مقدمات میں دس دس سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ اسی طرح پارٹی سربراہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ایک تحفے سے متعلق مقدمے میں طویل سزا دی گئی۔ یہ سب فیصلے اپنی نوعیت میں غیر معمولی ہیں، مگر ان کی قانونی بنیادیں عوام کے سامنے واضح نہیں ہو سکیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ فیصلے سخت ہیں یا نرم، بلکہ یہ ہے کہ ان فیصلوں کی منطق، شواہد اور قانونی معیار عوامی جانچ کے لیے دستیاب نہیں۔ جب ایک سیاسی رہنما پر ایک کے بعد ایک مقدمے میں سزا سنائی جائے اور اس کے باوجود عوام کو یہ سمجھ نہ آئے کہ جرم کیسے ثابت ہوا، تو سوالات اٹھنا فطری ہے۔ عدالتی فیصلوں کی طاقت صرف سزا میں نہیں بلکہ اس دلیل میں ہوتی ہے جو سزا کے پیچھے کارفرما ہو۔ اگر دلیل ہی نظروں سے اوجھل رہے تو فیصلہ خواہ کتنا ہی قانونی کیوں نہ ہو، اس کی ساکھ متاثر ہو جاتی ہے۔
یہ شکوک اس وقت مزید گہرے ہو جاتے ہیں جب ایک اور سینئر رہنما کے ساتھ ہونے والا سلوک دیکھا جائے۔ شاہ محمود قریشی متعدد مقدمات میں بری ہو چکے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں ضمانت نہیں مل رہی اور وہ بدستور قید میں ہیں۔ سرکاری مؤقف یہ ہے کہ ان کے خلاف دیگر مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں زیرِ سماعت ہیں، مگر جب بار بار شواہد کی کمی سامنے آ رہی ہو تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ قید کی وجہ قانونی کم اور سیاسی زیادہ ہے۔ اس طرح کا رویہ حکومتی بیانیے کو کمزور کرتا ہے کہ وہ محض قانون کی عمل داری چاہتی ہے، اور اسے سیاسی انتقام کے الزام کے قریب لے جاتا ہے۔
ریاست اگر واقعی قانون کی بالادستی ثابت کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے انصاف کے عمل کو شفاف بنانا ہوگا۔ مقدمات بند کمروں میں چلیں، میڈیا کو محدود رکھا جائے اور فیصلے اچانک سامنے آئیں تو یہ سب کچھ انصاف کے وقار کو کم کرتا ہے۔ سیاسی قیادت کے خلاف مقدمات میں خاص طور پر یہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ایسے فیصلوں کے اثرات صرف افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے سیاسی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی سیاست میں تصادم کی فضا نے معاملات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا فقدان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہر عدالتی فیصلہ سیاسی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ اس ماحول میں عدلیہ پر دوہرا بوجھ پڑتا ہے: ایک طرف اسے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے، دوسری طرف اسے اس فیصلے کو اس انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے کہ اس کی غیر جانبداری پر سوال نہ اٹھے۔ بدقسمتی سے حالیہ مقدمات میں یہ دوسرا پہلو بری طرح نظر انداز ہوا ہے۔
عدالتیں اگر واقعی ریاست کا مضبوط ستون بننا چاہتی ہیں تو انہیں صرف فیصلہ سنانے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے عمل کو عوامی اعتماد کے قابل بھی بنانا ہوگا۔ کھلی سماعتیں، واضح تحریری فیصلے، شواہد کی تفصیل اور آزاد ذرائع ابلاغ کی موجودگی وہ عناصر ہیں جو انصاف کو نظر آنے کے قابل بناتے ہیں۔ ان کے بغیر انصاف محض ایک دعویٰ بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ اداریہ کسی فرد یا جماعت کے حق میں یا خلاف نہیں بلکہ ایک اصول کے حق میں ہے۔ سیاسی اختلاف کو جرم اور اختلافِ رائے کو بغاوت بنا دینے کا رویہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے زہر قاتل ہوتا ہے۔ اگر واقعی غلطی ہوئی ہے تو اسے ثابت کرنے کا واحد راستہ شفاف اور منصفانہ عدالتی عمل ہے۔ بصورتِ دیگر ہر سزا ایک نئے سوال کو جنم دے گی اور ہر فیصلہ اعتماد کے بجائے شکوک میں اضافہ کرے گا۔
آخرکار یہ بات سمجھنا ہوگی کہ انصاف صرف عدالتوں کے فیصلوں سے زندہ نہیں رہتا بلکہ عوام کے یقین سے زندہ رہتا ہے۔ اگر عوام کو یہ یقین نہ رہے کہ فیصلے آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور مکمل شفافیت کے ساتھ ہو رہے ہیں تو قانون کی عمل داری کمزور پڑ جاتی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف حالیہ فیصلے اسی آزمائش کا نام ہیں۔ یہ فیصلے تاریخ میں کیسے لکھے جائیں گے، اس کا انحصار صرف سزاؤں پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ کیا انصاف واقعی نظر آیا یا نہیں۔







