نشتر ایڈز،شہباز شریف ہسپتال ریفر،مزید 5 مریضوں میں تصدیق، تعداد بڑھنے کا خدشہ

نشتر:11خواتین،14مردوں میں ایڈزکی تصدیق،انتظامیہ کوکلین چٹ،ریکارڈتبدیل،حکومتی کمیٹی برہم

ملتان(سٹاف رپورٹر)نشتر ہسپتال میں ایڈز کے مریضوں کیلئے مخصوص ڈائیلسز یونٹ سے عام افراد کی گردے واش کئے جانے کی نشتر ہسپتال کی تاریخ کی سب سے بڑی مجرمانہ غفلت سے اب تک 25 مریضوں کے ایڈز میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ تعداد بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔دوسری طرف نشتر انتظامیہ، وائس چانسلر، ایم ایس اور متعلقہ ڈاکٹروں نے ملی بھگت کر کے تمام تر ریکارڈ میں رد و بدل کر دیا ہے اور تمام متعلقین ایک دوسرے کی پردہ پوشی میں لگے ہوئے ہیں ۔جن مریضوں میں ایڈز کے جراثیم کی تصدیق ہونے کے بعد انہیں باضابطہ ایڈز کے مریض قرار دے دیا گیا ہے وہ تمام کے تمام گردے واش کراتے تھے اور نشتر کے نیو یونٹ سے ہی گردے واش کراتے تھے جہاں یہ سانحہ پیش آیا ہے۔ ایڈز میں مبتلا ہونے والوں میں رخسانہ بی بی زوجہ ظہیر عباس ،شبانہ زوجہ محمد زاہد، اللہ دتی زوجہ جلیل، سعیدہ جہانگیر زوجہ جہانگیر، فردوس بی بی ،منزہ بی بی ،شبانہ، انوری بیگم، شہناز، امبرین اور ارم سمیت 11خواتین شامل ہیں۔ متاثر ہونے والے افراد میں محمد شریف، عثمان جاوید ،عبداللہ، عبدالرشید ،حافظ سعید، شمشاد، مشتاق، واجد علی، مطیع الرسول، محمد افضل، محمد امجد، جاوید ،شاہنواز اور محمد عاصم سمیت 14 مرد حضرات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں نشتر انتظامیہ نے اپنی انٹرنل انکوائری میں کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا اور نیو ڈائیلسز یونٹ کے انچارج ڈاکٹر پونم اور ڈاکٹر عالمگیر اور اس کے عملے کے خلاف بھی کسی قسم کی کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی۔وائس چانسلر نے بھی ایک سیاست دان سے پناہ اور مدد مانگ لی ہے جو کہ جزوی طور پر انہیں مل بھی چکی ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ جس انٹرنل کمیٹی نے انکوائری کی ہے اس نے 25 مریضوں میں ایڈز کی تصدیق کی ہے مگر اس کے باوجود کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا اور نہ ہی کسی پر کسی بھی قسم کی پینلٹی ڈالی گئی ہے۔ دوسری طرف حکومت کی طرف سے بنائی جانے والی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ریکارڈ اور وارڈ کے معائنے کے دوران شدید قسم کی غفلت کا مشاہدہ کیا ہے۔ ریکارڈ بھی مرتب نہیں اور جو ریکارڈ موجود ہے اس میں بھی جگہ جگہ ٹیمپرنگ کی گئی ہے جبکہ ریکارڈ میں بہت سا رد و بدل بھی پکڑ لیا گیا ہے۔ اس صورتحال پر حکومت پنجاب کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ٹرانسپلانٹ اتھارٹی ڈاکٹر شہزاد انور کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی نے تمام تر ریکارڈ قبضے میں لے کر طبی عملے اور مریضوں کے بیانات بھی لئے ہیں جبکہ مریضوں کے لواحقین سے بھی معلومات لی گئی ہیں۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کل سوموار کے روز سیکرٹری صحت کو رپورٹ پیش کرے گی تا ہم کسی بھی حکومتی شخصیت اور وزیر صحت کی طرف سے کسی بھی نمائندے نےنشتر کا وزٹ نہیں کیا ۔اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ ایڈز کا نام سن کر کوئی بھی ملتان آنے کی جرات نہیں کر پا رہا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں