
ملتان(سٹاف رپورٹر)رکن صوبائی اسمبلی پی پی 213ملتان سیدعلی حیدرگیلانی نے پنجاب اسمبلی میں نشترہسپتال کی ممکنہ نجکاری کیخلاف تحریک التواجمع کرادی۔تحریک التوامیں کہاگیاہےکہ یہ ایوان اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد قائم ہونے والا ملک کا پہلا میڈیکل کالج، نشتر میڈیکل کالج ملتان جو نہ صرف تاریخی اہمیت کا حامل ہے بلکہ قومی تعلیمی، طبی اور عوامی ورثہ بھی ہے، اسے مبینہ طور پر موجودہ حکومت کی جانب سے پرائیویٹائز کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان شہر کے وسط میں تقریباً 125 ایکڑ پر محیط ایک وسیع و عریض تعلیمی ادارہ ہے، جس کی موجودہ دور میں ازسرِنو تعمیر یا متبادل ادارے کے قیام پر ماہرین کے اندازے کے مطابق 80 سے 90 ارب روپے سے کم لاگت ممکن نہیں۔ ایسے میں اس قومی اثاثے کو نجکاری کی طرف دھکیلنا نہ صرف عوامی مفاد کے منافی ہے بلکہ قومی وسائل کے ساتھ ناانصافی کے مترادف بھی ہے۔یہ ادارہ اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے پاکستان کے ممتاز سیاسی و سماجی رہنما مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کے والدِ محترم مخدوم علمدار حسین گیلانی نے اپنی ذاتی دلچسپی، وژن اور کاوشوں سے قائم کروایا جس کا مقصد جنوبی پنجاب کے پسماندہ عوام کو معیاری طبی تعلیم اور علاج کی سہولیات فراہم کرنا تھا۔یہ ایوان سمجھتا ہے کہ نشتر میڈیکل کالج جیسے تاریخی، عوامی اور قومی اداروں کی نجکاری سے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے طبی تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے، علاج معالجہ مہنگا ہو گا اور ریاست کی فلاحی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات جنم لیں گے۔







