آج کی تاریخ

نشتر ہسپتال، لیڈی ڈاکٹروں کو ہراسگی کا بدستور سامنا، ایک اور کیس

ملتان (وقائع نگار ) نشتر ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹروں کو ہراسگی کا سامنا بدستور جاری ۔شعبہ نیورو سرجری کی لیڈی ڈاکٹر نے اپنے ساتھ ہونے والی ہراسگی کی بابت تحریری شکایت سربراہ نیورو کو دے دی ہے جبکہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت جلال نے الزام علیہ ڈاکٹر کو فوری طور پر سرنڈر کردیا ۔دوسری جانب ایم ایس نشتر ہسپتال نے الزام علیہ ڈاکٹر کو 24 گھنٹے کے اندر معاملہ سلجھانے کیلئے الٹی میٹم دے دیا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے نشتر ہسپتال کے شعبہ نیورو سرجری کی پی جی آر ڈاکٹر زرمینہ نے سربراہ نیورو سرجری ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت جلال کو ایک تحریری درخواست دی ہے جس کا متن کچھ یوں ہے کہ ڈاکٹر خاتیم الحق جو وارڈ نمبر 14 میں ہوتے ہیں ، بلاوجہ پریشان کرتے ہیں ۔ہسپتال کے برآمدے میں اکثر اوقات بغیر وجہ کے میرے پیچھے آتا رہتا ہےجس کے پاس کوئی آفیشل جواز بھی نہیں ہوتا ۔اسی طرح کالز بھی کرتا ہے ۔جہاں جہاں میری ڈیوٹی ہوتی ہے وہاں آکر کافی دیر تک موجود رہتا ہے ۔اس طرح دیگر الزامات درخواست میں لگائے گئے ہیں ۔درخواست میں یہ کہا گیا ہے 23 اگست 2025 کو میں اپنی کولیگیز کے ساتھ وارڈ میں موجود تھی ۔اوپر سے ڈاکٹر حاتیم الحق آگیا ۔درخواست ملنے پر نیورو سرجری کے سربراہ ڈاکٹر لیاقت جلال نے ڈاکٹر خاتیم الحق کو سرنڈر کرکے رپورٹ نشتر ہسپتال کے ایم ایس کو بھیجوا دی ہے ۔ ایم ایس ڈاکٹر رائو امجد علی نے سرنڈر لیٹر ملنے پر ڈاکٹر خاتیم الحق کو اپنے آفس گزشتہ روز بلایا اور آخری موقع دیا ہے کہ وہ کسی طرح سے لیڈی ڈاکٹر زرمینہ اور ڈاکٹر لیاقت جلال کو منا لیں بصورت دیگر چوبیس گھنٹے گزرنے جانے کے بعد سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔اس حوالے سے ڈاکٹر راؤ امجد علی کا کہنا ہے اگر 24 گھنٹے کے اندر صلح یا معافی نہ ملی تو مجبور اً ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔یاد رہے نشتر ہسپتال میں کچھ عرصہ قبل میڈیکل سٹوڈنٹ کو اغوا کرلیا گیا تھا۔اسی طرح کچھ خواتین ملازمہ نے پولیس تھانہ کینٹ میں جنسی ہراساں کرنے پر مقدمہ درج کروایا تھا

شیئر کریں

:مزید خبریں