نشتر میں اخلاقیات کا جنازہ، احتجاج پر غلیظ اشارے کرنے والا ڈاکٹر نوکری سے فارغ

ملتان (وقائع نگار ) نشتر ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں خاتون مریضہ کے انتقال پر غمزدہ لواحقین کے ساتھ بدتمیزی کرنے اور انہیں غلیظ اشارے کرنے والے ہاؤس آفیسر ڈاکٹر قاسم جمال کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا ۔ ایم ایس نشتر نے وی سی نشتر کے حکم پر برطرفی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں مذکورہ ڈاکٹر کو لواحقین کی جانب سے احتجاج کرنے پر انتہائی نازیبا اشارے کرتے دیکھا گیا تھا۔ جاں بحق خاتون کے بیٹے کا کہنا ہے کہ وہ 17 دسمبر کو اپنی والدہ کو معدے کی تکلیف کے باعث ہسپتال لائے تھےجہاں انہیں محض ایک انجکشن لگا کر فارغ کر دیا گیا۔ اگلے روز حالت بگڑنے پر دوبارہ ایمرجنسی لائے جہاں ڈاکٹروں نے خون کی بوتل کا انتظام کرنے کا کہامگر کئی گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد جب خون فراہم کیا گیا تو ڈاکٹروں نے اسے لگانے میں لیت و لعل سے کام لیا اور پرائیویٹ ہسپتال جانے کا مشورہ دیتے رہے۔لواحقین کا الزام ہے کہ ڈاکٹروں کی غفلت اور شفٹ کی تبدیلی کے بہانے کے باعث مریضہ دم توڑ گئی اور جب انہوں نے اس ناانصافی پر آواز اٹھائی تو مسیحا کے روپ میں موجود ڈاکٹر قاسم جمال نے ہمدردی کے بجائے غلیظ اشارے کیے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق مذکورہ ڈاکٹر پہلے بھی تادیبی کارروائی کا سامنا کر چکاہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس گھٹیا حرکت سے طبی برادری اور ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے جس پر سخت ایکشن لیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں