نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں انتظامی خلا، ہسپتال تباہ حال، مریضوں کی زندگی خطرے میں

ملتان (وقائع نگار) نشتر میڈیکل یونیورسٹی انتظامی خلا اور ہسپتال کی تباہی، پی جی ڈاکٹر یاسر کی لرزہ خیز شکایت جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا طبی ادارہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور اس کا منسلک ہسپتال، جو لاکھوں مریضوں کی امید ہے شدید انتظامی بحران کا شکار ہے۔ یونیورسٹی پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار کے خالی عہدوں پر چل رہی ہے، جبکہ ہسپتال کی حالت کو ایک پی جی ڈاکٹر نے “سلاٹر ہاؤس” قرار دے دیا ہے۔ یہ شکایت سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے اور طبی برادری میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔پوسٹ گریجوایٹ (پی جی) ریذیڈنٹ ڈاکٹر یاسر جو نشتر ہسپتال ملتان میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، نے حال ہی میں ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے ہسپتال کی موجودہ حالت کو “سلاٹر ہاؤس” (قصابی خانہ) سے تشبیہ دی۔ ڈاکٹر یاسر کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں صفائی کی کوئی گنجائش نہیں، مریضوں کی لائنیں الجھاؤ کا شکار ہیں، اور طبی عملہ کی عدم توجہ کی وجہ سے روزانہ انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ “یہاں توڑ پھوڑ، گندگی اور افراتفری کا راج ہے، جیسے کوئی سلاٹر ہاوس چل رہا ہو۔ مریضوں کو بنیادی سہولیات بھی نصیب نہیں، اور انتظامیہ کی لاپرواہی نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے،یہ شکایت کوئی پہلی نہیں ہے۔ ماضی میں نشتر ہسپتال کو متعدد تنازعات کا سامنا کرنا پڑا، جیسے 2024 میں ڈائیلسز یونٹ میں ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کا سانحہ، جس کی انکوائری رپورٹ میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی تھی۔ تاہم، انتظامی سطح پر بہتری کی بجائے مسائل مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہسپتال کی OPD میں ملازمین کے درمیان جھگڑے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جہاں ایک واقعہ میں “میدانِ جنگ” جیسی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔انتظامی خلا کا معاملہ بھی سنگین ہے۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ستمبر 2025 میں پرو وائس چانسلر کے خالی عہدے پر مستقل تعیناتی کے لیے تین نام سیکرٹری صحت پنجاب کو بھیجے تھے، لیکن اب تک کوئی اعلان نہیں ہوا۔ اسی طرح رجسٹرار کا عہدہ بھی خالی ہے طبی برادری اور مریضوں کے اداروں نے اس صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے مقامی عہدیداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر انتظامی عہدوں پر مستقل تعیناتیاں کی جائیں اور ہسپتال کی حالت کا جائزہ لیا جائے۔ ایک مریض کے رشتہ دار نے بتایا، “میرا بھائی یہاں علاج کے لیے آیا، مگر صفائی کی کمی اور عملے کی لاپرواہی نے اس کی حالت مزید خراب کر دی۔ یہ ہسپتال نہیں، موت کا دروازہ بن گیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ محکمہ صحت پنجاب اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کا ارادہ رکھتا ہے۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی، جو ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے لاکھوں لوگوں کی صحت کا محافظ ہے، کی یہ حالت نہ صرف مریضوں بلکہ مستقبل کے ڈاکٹروں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ کیا انتظامیہ جاگے گی، یا یہ بحران مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا؟ یہ سوال آج ہر شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں