تازہ ترین

نشترہسپتال، ڈاکٹر کمیشن مافیا، اخلاقیات پامال، مریضوں سے دوگنا ریٹ وصول

ملتان (وقائع نگار) نشتر ہسپتال ملتان آرتھو کی وارڈ نمبر 24 کے پروفیسر ڈاکٹر کامران صدیقی پر وینڈر سے بھاری کمیشن لینے کے سنگین الزامات، وارڈ نمبر 24 میں مبینہ اجارہ داری، مہنگے داموں طبی سامان کی فروخت اور کمیشن کا کھیل بے نقاب ایم ایس کی جواب طلبی پر ڈاکٹر نے وارڈ بند کرنے کی دھمکی دے دی تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال ملتان کے وارڈ نمبر 24 میں مریضوں کے استحصال، مخصوص وینڈر کی مبینہ اجارہ داری اور طبی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزیوں پر مبنی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جس نے سرکاری ہسپتالوں میں شفافیت اور احتساب پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ذرائع اور متاثرہ مریضوں کے بیانات کے مطابق وارڈ نمبر 24 میں تعینات پروفیسر ڈاکٹر کامران صدیقی کی سرپرستی میں مبینہ طور پر ایک مخصوص وینڈر “بلال” کو طبی سامان کی فراہمی کا واحد ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ اگر کوئی مریض یا اس کے لواحقین مطلوبہ طبی سامان مارکیٹ یا کسی دوسرے میڈیکل اسٹور سے خریدیں تو ان کا آپریشن جان بوجھ کر مؤخر یا مکمل طور پر روک دیا جاتا ہے۔تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مذکورہ وینڈر مریضوں کو وہی طبی سامان مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں دو گنا قیمت پر فروخت کرتا ہے۔ متعدد مریضوں نے بتایا کہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں چھوڑا جاتا اور “آپریشن” کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس زائد وصولی میں سے بھاری رقوم مبینہ طور پر کمیشن کی صورت میں متعلقہ ڈاکٹر تک پہنچتی ہیں، تاہم اس حوالے سے مالی ریکارڈ اور ٹرانزیکشنز کی باقاعدہ جانچ تاحال نہیں کی جا سکی۔مزید سنگین انکشاف یہ ہے کہ جب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر ہسپتال ملتان ڈاکٹر راؤ امجد علی خان نے موصول ہونے والی شکایات پر پروفیسر ڈاکٹر کامران صدیقی سے باضابطہ جواب طلبی کی تو ذرائع کے مطابق انہوں نے انتظامیہ پر دباؤ ڈالتے ہوئے وارڈ بند کرنے کی دھمکی دی، جسے سرکاری ہسپتال کے نظم و ضبط اور مریضوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اتنے سنگین الزامات کے باوجود تاحال کوئی واضح انکوائری رپورٹ، وینڈر کا کنٹریکٹ ریکارڈ، یا خریداری کا شفاف طریقہ کار منظرِ عام پر نہیں آ سکا۔متاثرہ مریضوں اور شہری حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری صحت اور نیب سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وارڈ نمبر 24 میں ہونے والی تمام سرجریز کا آڈٹ کیا جائےوینڈر سے سامان کی خریداری اور قیمتوں کا فرانزک جائزہ لیا جائےمبینہ کمیشن مافیا کے خلاف فوری کارروائی کی جائےاس معاملے پر جب ایم ایس ڈاکٹر راؤ امجد علی خان سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ سامان کی گزشتہ دنوں کمی تھی ہسپتال انتظامیہ نے وارڈ نمبر 24 کے لیے 15 لاکھ روپے کا سامان فراہم کر دیا گیا ہے 18 کروڑ روپے کا مزید سامان خریدا جائے گا جس کے لیے ٹینڈر دے دیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں