ملتان (وقائع نگار) نشتر ہسپتال ملتان پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی کا غریب سکیورٹی گارڈز کا استحصال، دو ماہ سے تنخواہیں معطل ہیں نشتر ہسپتال ملتان، جو صوبہ پنجاب کا سب سے بڑا صحت کا مرکز ہے، اس وقت سکیورٹی گارڈز کی شدید مالی تنگی کا شکار ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی کو سونپنے کے بعد گارڈز کو گزشتہ دو ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ مزید پریشانی کی بات یہ ہے کہ کمپنی انتظامیہ گارڈز کو صرف 37 ہزار روپے کے ووچرز پر دستخط کروا رہی ہے، جبکہ ان کی ماہانہ تنخواہ 30 ہزار روپے طے شدہ ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف گارڈز کی معاشی مشکلات بڑھا رہی ہے بلکہ ہسپتال کی سیکورٹی کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔نشتر ہسپتال کے سیکورٹی ونگ میں تعینات تقریباً 150 گارڈز ہیں ذرائع نے بتایا کہ جون 2025 میں ہسپتال انتظامیہ نے ٹھیکہ ایک نجی کمپنی ‘سیف گارڈ سروسز کو دیا تھا، جس کے بعد ان کی تنخواہوں میں تاخیر کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک گارڈ نے بتایا، “ہم دن رات ہسپتال کی حفاظت کرتے ہیں، مریضوں اور ڈاکٹروں کی جان و مال کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ہے، لیکن اب دو ماہ سے بھوک اور قرضوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ کمپنی والے ہمیں 37 ہزار روپے کے ووچر پر سائن کرواتے ہیں اور کہتے ہیں کہ باقی رقم ‘ایڈمنسٹریٹو اخراجات میں چلی گئی۔ یہ کھلا دھوکہ ہے!”ذرائع کے مطابق، کمپنی انتظامیہ ہسپتال سے ماہانہ 45 لاکھ روپے کی ادائیگی وصول کر رہی ہے، جو تمام گارڈز کی تنخواہوں کے لیے کافی سے زیادہ ہے، مگر یہ رقم گارڈز تک پہنچنے کے بجائے کمپنی کے مالکان کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ ایک اور گارڈ، جو نشتر ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں تعینات ہیں، نے کہا، “ہمارے بچوں کی تعلیم اور گھر کا خرچہ چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم مجبوراً ڈیوٹی چھوڑ دیں گے، اور ہسپتال کی سیکورٹی کمزور ہو جائے گی۔”ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ نشتر ہسپتال کے میڈیکل پرنٹینڈنٹ نے رابطہ کرنے پر کہا یہ معاملہ کمپنی کا اندرونی ہے، ہم ٹھیکہ کی شرائط کے مطابق ادائیگیاں کر رہے ہیں۔” تاہم، گارڈز نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت اور لیبر ڈیپارٹمنٹ فوری مداخلت کرے اور ٹھیکہ معطل کر کے براہ راست تنخواہیں جاری کی جائیں۔یہ واقعہ نجی کمپنیوں کے ٹھیکوں میں استحصال کی ایک اور مثال ہے، جو غریب مزدوروں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رہی ہے۔ گزشتہ سال بھی ملتان کے کئی سرکاری اداروں میں ایسے ہی تنخواہوں کے تنازعات سامنے آئے تھے، جن کی وجہ سے سیکورٹی اور صفائی کے شعبوں میں بحران پیدا ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو نجی ٹھیکوں کی نگرانی سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے دھوکہ دہی کے واقعات روکے جا سکیں۔گارڈز نے اعلان کیا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں تنخواہیں نہ ملیں تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے، جو ہسپتال کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔







