دوران ڈیلیوری زائدانستھیزیادینےپربینکارفاخرہ 2009میں کومےمیں چلی گئی تھیں
ڈاکٹرز کی غفلت سےبیٹی کومہ میں گئی،کوئی کارروائی نہیں ہوئی:والدقاضی اسماعیل طاہر
[urdu_multicolumn columns=”2″]
ملتان(ایڈیٹر رپورٹنگ ) نشتر ہسپتال میں زیر علاج قومہ کا شکار فاخرہ بی بی دم توڑ گئیں ، نجی ہسپتال میں دوران ڈیلیوری آپریشن انستھیزیا کی زائد مقدار دئیے جانے کی وجہ سے کومہ میں جانے والی فاخرہ 14 سال 10 ماہ اور 5 دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہی۔ تفصیل کے مطابق نجی ہسپتال میں زچگی کے دوران ڈاکٹروں کی مبینہ غلفت سے بینکار فاخرہ 23 اگست 2009 کو کومہ میں چلی گئی تھیں جس کے بعد انہیں نشتر ہسپتال آئی سی یو وارڈ میں داخل کرایا گیا، اسی دوران چائنا میں ان کی سٹیم سیل تھراپی بھی تجویز کی گئی تھی اس بارے میں فاخرہ کے والد قاضی اسماعیل طاہر کا کہنا ہے کہ جن ڈاکٹرز کی غفلت کی وجہ سے میری بیٹی کومہ میں گئی ان کے خلاف تاحال کوئی سخت محکمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ 2017 میں فاخرہ احمد کے جسم میں خون کی شدید کمی ہوئی اور مختلف حصوں سے وقفے وقفے سے خون بہتا رہا ۔ فاخرہ احمد گزشتہ روز 14 سال 10 ماہ اور 5 دن( 178 ماہ ، 5 دن ) زیر علاج رہنے کے بعد نشتر آئی سی یو وارڈ میں انتقال کر گئیں ۔
[/urdu_multicolumn]






