ملتان (سٹاف رپورٹر) لاکھوں بچوں کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت کی دعوے داری سے ملتان کے شہریوں سے تین دہائیوں کے دوران کھربوں روپے ایٹھنے والے نشاط گروپ کے سپوت شاہ میر کے بارے میں مزید انکشافات ہوئے ہیں کہ جس رات اس نے خانیوال کے دو بھائیوں کو کچل کر موقع پر ہی موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ اس رات وہ مبینہ طور پر ایک فارم ہائوس میں رقص کی محفل میں کوکین کے نشے میں دھت تھا اور زیادہ مقدار میں کوکین کے استعمال سے اس کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل کر اس کا وژن ختم ہورہا تھا تو وہ اٹھ کر گاڑی میں بیٹھا او ایک دوست کی گاڑی کا پیچھا کرتے ریس لگانے لگا جس پر اسے روکا تو اس نے گاڑی موڑ کر ان دونوں بھائیوں کو کچل دیا اور یہ حادثہ اتنا شدید تھا کہ اس کی الٹس گاڑی کے دونوں ٹائر بھی باڈی سے نکل گئے۔ پانچ روزگزرنے کے باوجود پولیس اس ملزم کے دوسرے ساتھی کو گرفتار نہیں کرسکی اور دوسری طرف ملزم شاہ میر کے والد نے 2014 کی طرح ایک مرتبہ پھر ’’نوٹ لٹائو اور سہولت پائو‘‘ کی پالیسی پر عمل شروع کردیا ہے۔ اس حادثے میں شدید زخمی ہونے والے 25سالہ نوجوان سید عبید کے بارے معلوم ہوا ہے کہ ابھی تک اس کے دماغ کے دو آپریشن ہو چکے ہیں مگراس کو مکمل طور پر ہوش نہیں آیا تاہم ڈاکٹروں کو امید ہے کہ اس کی اگلے دو ہفتوں میں ریکوری ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں نشاط سکول سسٹم کی بانی میڈم نشاط کے دوسرے پوتے شہیر کے بارے میں معلو م ہوا ہے کہ اس نے 2014 میں اپنے جس بچپن کے دوست کے ساتھ پہلے نوکروں اور پھر خود بد فعلی کی اوراس کی ویڈیوز بنائیں ۔ وہ نوجوان بھی ملتان میں ڈاکٹر ہے مگر بتایا گیا ہے کہ اس کے والد نے بھی مبینہ طور پر سخت دبائو کے بعد بھاری ہرجانے کے عوض صلح کی تھی جو کہ مختلف ذرائع کے مطابق 3کروڑ سے زائد ہرجانہ تھا۔ میڈم نشاط نے اپنی زندگی میں تین شادیاں کیں اور ان کے والد نواب بہاولپور کے پاس چیف انجینئر تھے۔ میڈم نشاط کی پہلی شادی سوات کے نواب کے بیٹے سے ہوئی پھر ایک شادی خاندان میں اور ایک شادی مگسی بلوچ وکیل سے ہوئی تھی۔







