ملتان (سپیشل رپورٹر)پراپرٹی کے نئے قانون کے غلط اطلاق پر لاہور ہائی کورٹ کی پہلی بڑی ضرب۔ پنجاب کے نئے پراپرٹی آرڈیننس 2025 کے تحت بننے والی ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی (ڈی آر سی) کے اختیارات پر عدالتِ عالیہ کا بڑا فیصلہ۔ اب یہ کمیٹی کسی کو زبردستی گھر یا زمین سے بے دخل نہیں کر سکے گی۔ لاہور ہائی کورٹ، ملتان بنچ کے جج جسٹس احمد ندیم ارشد نے تاریخی فیصلہ دے دیا ۔فیصلے کے اہم نکات میں بے دخلی کا اختیار ختم کرنے کا فیصلہ سر فہرست ہے ۔ DRC کسی کو پراپرٹی خالی کرنے یا زبردستی قبضہ چھوڑنے کا حکم نہیں دے سکتی، یہ اختیار صرف مخصوص “ٹریبونل” کے پاس ہے۔ اگر کسی جائیداد پر پہلے سے دیوانی عدالت کا اسٹے آرڈر موجود ہے، تو DRC اس میں مداخلت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ فیصلہ میں زبانی احکامات غیر قانونی قرار دئے گئے ہیں۔ انتظامی افسران (DC/ADC) کی جانب سے زبانی طور پر جگہ خالی کرنے کی دھمکیاں یا احکامات دینا قانون اور “ڈیو پراسیس” کے خلاف ہے۔ فاضل جسٹس نے کہا کہ DRC کا کام صرف ریکارڈ کی چھان بین اور فریقین میں صلح کی کوشش کرنا ہے، یہ کوئی عدالتی یا انتظامی طور پر قبضہ چھڑوانے والا ادارہ نہیں ہے۔ “DRC ایک سہولت کار ادارہ ہے، عدالتی ٹریبونل نہیں۔ قانون کی آڑ میں کسی شہری کے بنیادی حقوق پامال نہیں کیے جا سکتے ۔







