ملتان (سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان ایک بار پھر انتظامی فیصلوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ طلبا و طالبات نے فیسوں کے اجرا کے طریقہ کار کو غیر منصفانہ اور ظالمانہ قرار دے دیا ۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے اچانک فیس واؤچرز جاری کیے اور صرف ایک دن بعد ہی آخری تاریخ مقرر کر دی جس نے طلبہ کو شدید ذہنی دباؤ اور مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں فیس واؤچر آج (کل)موصول ہوئے جبکہ کل(آج) ہی ادائیگی کی آخری تاریخ رکھ دی گئی جو نہ صرف غیر حقیقی بلکہ موجودہ ملکی معاشی حالات میں ایک سنگین ناانصافی ہے۔ مزید حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ فیس واؤچرز پر اجرا کی تاریخ 16 فروری درج کی گئی ہےجس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ واؤچرز ایک ماہ قبل جاری ہو چکے تھے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ذرائع کے مطابق طلبہ کو فیس جمع کروانے کے لیے صرف گول باغ برانچ تک محدود کر دیا گیا ہےجس کے باعث دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے ایک ہی دن میں ملتان آنا، فیس جمع کروانا اور واپس جانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔عیدکی آمدکے باعث ٹرانسپورٹ ملنابھی دشوارہے۔ طلبہ نے اس اقدام کو’’کھلی زیادتی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کا آن لائن سسٹم اور سرور اکثر ڈاؤن رہتا ہےجس کی وجہ سے آن لائن ادائیگی بھی ممکن نہیں رہتی۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ وہ فیس ادا کرنے سے انکاری نہیںبلکہ صرف چند دن کی مہلت چاہتے ہیں تاکہ موجودہ مہنگائی اور مالی دباؤ کے پیش نظر مناسب طریقے سے ادائیگی کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے اس عجلت کا جواز اساتذہ کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کو بنایا ہے، مگر اس کے لیے طلبہ کو قربانی کا بکرا بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ تعلیمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں صارفین یونیورسٹی انتظامیہ کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور فوری طور پر فیس جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبہ نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور طلبہ کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائےبصورت دیگر یہ معاملہ مزید سنگین احتجاج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔







