ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جس کا بنیادی مقصد شہری زندگی کو بہتر بنانا، نظم و ضبط قائم کرنا اور ترقیاتی عمل کو شفاف بنانا تھا، آج خود شدید تنقید کی زد میں ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ محکمہ عملی طور پر معاشرے کی بہتری کے بجائے صرف اور صرف کاغذی دعوؤں اور ترقی کے نام پر افسانہ سازی میں مصروف ہے، جبکہ زمینی سطح پر بدنظمی، بدانتظامی اور شہری اذیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تجاوزات اور بے ہنگم پارکنگ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ میونسپل کارپوریشن اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اہم شاہراہیں، مرکزی بازار، گنجان آباد چوک اور رہائشی علاقوں کی سڑکیں بااثر عناصر کے قبضے میں ہیں، جہاں قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام صورتحال محض غفلت نہیں بلکہ مبینہ طور پر رشوت خوری اور سرپرستی کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے، جس کے باعث کسی کو قانون کا خوف نہیں رہا۔ ملتان میں شادی ہالز اور بینکوئٹ ہالز کے باہر ہونے والی ناجائز پارکنگ شہری زندگی کے لیے سب سے بڑا عذاب بن چکی ہے۔ تقریبات کے اوقات میں سڑکیں مکمل طور پر بند ہو جاتی ہیں، ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور دیگر ایمرجنسی سروسز تک کا گزر مشکل ہو جاتا ہے، مگر اس کے باوجود میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دیتی۔ اقبال مارکی واٹر ورکس روڈ، بسم اللہ میرج کلب معصوم شاہ روڈ، گلستان میرج کلب رحیم چوک، کپل میرج کلب، خیام سینما روڈ، عرفات میرج کلب، بابا صفرا روڈ، انمول میرج کلب، امپیرئیل بینکوٹ ہال اور مغل اعظم میرج ہال، ڈائیوو ٹرمینل کے ساتھ واقع النور میرج کلب، عثمان غنی روڈ پر ہم سفر میرج کلب،جالندھر میرج کلب نزد سبزی منڈی ملتان، خانیوال روڈ پر بی جے مارکی اور اورینٹ ہال جیسے مقامات پر ناجائز پارکنگ روز کا معمول بن چکی ہے، جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ یہ سب کچھ میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ افسران اقبال خان CO اور ان کے فرنٹ مین اور کماؤ پوت منیر احمد انسپکٹر کی مرضی سے اور خوشنودی سے ہو رہا ہے۔ عوامی سطح پر سی ای او میونسپل کارپوریشن اقبال خان اور انسپکٹر منیر احمد کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی موجودگی کے باوجود نہ تو غیر قانونی پارکنگ رک سکی اور نہ ہی تجاوزات کے خلاف مستقل اور بلا امتیاز کارروائی ممکن ہو سکی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملتان میں نہ صرف ٹریفک کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گا بلکہ شہریوں کا اداروں پر اعتماد بھی ختم ہو کر رہ جائے گا۔ عوامی، سماجی اور تاجر حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، کمشنر ملتان، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا جائے، میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی کا شفاف آڈٹ کرایا جائے، ناجائز پارکنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے اور اگر کسی افسر کی مبینہ غفلت یا بدعنوانی ثابت ہو تو اس کے خلاف مثال قائم کی جائے، تاکہ ملتان کو بدنظمی کے اندھیروں سے نکال کر حقیقی ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔ اس بارے میں رشوت خور انسپکٹر منیر احمد نے کسی قسم کا کوئی موقف نہ دیا۔







