میونسپل کارپوریشن اور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی میں مبینہ منتھلیاں، انسپکٹر کے الزامات سے ہنگامہ

ملتان (سٹاف رپورٹر) میونسپل کارپوریشن ملتان اور ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں مبینہ کرپشن، منتھلیوں اور غیرقانونی وصولیوں سے متعلق سامنے آنے والی سورس رپورٹ نے انتظامی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سورس رپورٹ کے مطابق انسپکٹر منیر احمد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ شادی ہالوں، میڈیکل اسٹورز اور پارکنگ اسٹینڈز سے ماہانہ مبینہ طور پر 11 لاکھ روپے منتھلیاں وصول کر رہا تھا، جو مبینہ طور پر اوپر تک پہنچائی جاتی تھیں۔ تاہم اس سنگین الزام کے بعد انسپکٹر منیر احمد کی جانب سے دیا گیا وضاحتی بیان معاملے کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا گیا ہے۔ اپنے تحریری بیان میں انسپکٹر منیر احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ آفس آرڈر نمبر 173/GEN مؤرخہ 27 مئی 2023 کے تحت تقریباً کچھ عرصہ قبل میونسپل کارپوریشن ملتان سے ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں بطور انفورسمنٹ انسپکٹر تبادلہ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے 27 مئی 2023 کو بعد از دوپہر ایم ڈبلیو ایم سی میں باقاعدہ حاضری رپورٹ جمع کروا دی تھی اور اس کے بعد وہ وہیں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ انسپکٹر منیر احمد نے سورس رپورٹ میں لگائے گئے منتھلیاں اکٹھی کرنے کے الزامات کو “غلط، بے بنیاد اور حقائق کے منافی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور کبھی بھی افسرانِ بالا کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کی صورت میں افسران کے حکم پر دو یا تین مقدمات کا اندراج ضرور کیا گیا، لیکن اس کے علاوہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ تاہم حیران کن امر یہ ہے کہ اسی بیان میں انسپکٹر منیر احمد خود اس بات کا اعتراف بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ اس وقت ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ملازم ہیں اور میونسپل کارپوریشن ملتان سے ان کا کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ واقعی ایم ڈبلیو ایم سی میں تعینات ہیں تو پھر میونسپل کارپوریشن ملتان کے دائرہ اختیار میں آنے والے شادی ہالوں، میڈیکل اسٹورز، پارکنگ اسٹینڈز اور تجاوزات کے معاملات میں ان کی مبینہ مداخلت کس حیثیت میں تھی؟ مزید یہ کہ اگر انسپکٹر منیر احمد تجاوزات کے خلاف کارروائی کے مجاز نہیں تھے تو وہ ان مقامات پر جانے، چیکنگ کرنے اور مبینہ طور پر منتھلیاں وصول کرنے کی پوزیشن میں کیسے آ سکتے تھے؟ اور اگر وہ واقعی منتھلیاں وصول نہیں کر رہے تھے تو پھر سورس رپورٹ میں اتنی بھاری رقم یعنی 11 لاکھ روپے ماہانہ کا ذکر کن بنیادوں پر کیا گیا؟ شہر کے باخبر حلقوں کے مطابق انسپکٹر منیر احمد کے بیان میں موجود تضادات خود اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ معاملہ محض ایک سادہ وضاحت کا نہیں بلکہ ایک منظم نظامِ وصولی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ “کبھی افسرانِ بالا کو شکایت کا موقع نہ دینے” کا دعویٰ دراصل اسی مبینہ نظام کا غیر اعلانیہ اعتراف تو نہیں، جس میں منتھلیاں باقاعدگی سے وصول کر کے اوپر تک پہنچائی جاتی تھیں؟ عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی غیرجانبدار اور شفاف انکوائری کروائی جائے، آفس آرڈرز، ڈیوٹی روسٹرز، فیلڈ اسائنمنٹس اور مالی ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی جائے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ 11 لاکھ روپے ماہانہ کی سورس رپورٹ محض “سازش” ہے یا پھر ایک بڑے کرپشن اسکینڈل کا سرا۔فی الحال انسپکٹر منیر احمد کا بیان سوالات کی گرد میں گھرا ہوا ہے اور ہر وضاحت کے ساتھ نئے سوال جنم لے رہے ہیں، جن کے جواب دینا اب متعلقہ حکام کی ذمہ داری بن چکا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میونسپل کارپوریشن ملتان میں سازشی ماحول بنا ہوا ہے۔ میونسپل کارپوریشن میں بیٹھے افراد میرے ساتھ گندی سیاستوں میں مصروف ہیں۔ اور انہی افراد نے سازشیں کر کے میرے خلاف سورس رپورٹ بنوائی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں