تازہ ترین

میونسپل عملہ کی بدمعاشی، قانون جوتے کی نوک پر، مرضی کے فیصلے، اپنی ریاست بنالی

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں میونسپل کارپوریشن کے چند بدنام زمانہ افسران و اہلکار قانون، ضابطے اور دائرۂ اختیار کو جوتے کی نوک پر رکھ کر ریاست کے اندر ریاست بن چکے ہیں۔ تجاوزات کے خاتمے پر مامور یہ عناصر خود تجاوزات، بدمعاشی اور بھتہ خوری کی زندہ مثال بن گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان افسران کا کام نقشہ چیک کرنا سرے سے ان کے دائرۂ اختیار میں ہی نہیں، مگر اس کے باوجود یہ لوگ تعمیراتی نقشے کو بہانہ بنا کر شریف شہریوں سے زبردستی پیسے بٹورنے میں مصروف ہیں۔ ان اہلکاروں کا وطیرہ بن چکا ہے کہ جہاں بھی کوئی شریف شہری، زیرِ تعمیر مکان یا کمزور فریق نظر آئے، یہ مختلف حیلے بہانوں سے وہاں جا دھمکتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں اور بھتے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان حلقوں میں یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ انہیں CO کی جانب سے کھلی چھوٹ حاصل ہے اور اس کھلی چھوٹ کی اصل وجہ ہر ماہ CO کی مبینہ ’’جیب گرم‘‘ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عناصر نہ صرف اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ اسی بھتہ خور مافیا کی ایک ہولناک مثال 21 جنوری 2026 کو سامنے آئی، جب میونسپل کارپوریشن ملتان کے اہلکاروں نے رشوت نہ دینے پر درندگی کی تمام حدیں پار کر دیں۔ سنٹرل جیل چوک ملتان کے رہائشی وکیل بلال بھٹہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت میں دائر درخواست میں انکشاف کیا کہ ان کے زیرِ تعمیر مکان پر میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں نے دھاوا بول دیا۔ درخواست کے مطابق ندیم نواز (انسپکٹر)، منیر احمد ترک، الیاس قریشی، روف گیلانی، اقبال خان (CO) اور 8 سے 15 نامعلوم افراد نے تعمیراتی نقشے کا بہانہ بنا کر موقع پر موجود ڈرائیور محمد شاہد کو نشانہ بنایا۔ نقشہ فوری طور پر پیش نہ کرنے پر پہلے تھپڑ مارے گئے، پھر لوہے کی راڈ سے کان اور کلائی پر وار کر کے اسے لہولہان کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق تشدد یہاں نہیں رکا بلکہ لاتوں، مکوں اور آہنی راڈز سے بدترین مارپیٹ کے بعد ڈرائیور کی جیب سے ڈیڑھ لاکھ روپے نقد نکال لیے گئے اور سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی میں ڈال کر اغوا کر لیا گیا۔ اہلِ علاقہ کے شور و غل پر ملزمان ڈرائیور کو چوک شاہ عباس کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ تمام کارروائی رشوت نہ دینے کے انتقام میں کی گئی۔ مبینہ طور پر ندیم نواز نے تعمیرات کے عوض بھتہ طلب کیا، انکار پر سرکاری اختیارات کو ذاتی غنڈہ گردی کے لیے استعمال کیا گیا۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ فریق جب تھانہ شاہ شمس پہنچا تو SHO نے ملزمان کے نام دیکھتے ہی درخواست لینے سے انکار کر دیا اور FIR درج کرنے سے صاف انکاری ہو گیا، جو پولیس کی جانبداری اور طاقتور سرکاری مافیا کے سامنے بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ملزمان کو سیاسی اور انتظامی سرپرستی حاصل ہے، اسی لیے وہ بلاخوف و خطر شہریوں کو تشدد، تذلیل اور لوٹ مار کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب سنگین سوال یہ ہے کہ کیا میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں کو شہریوں کو اغوا کرنے کا اختیار حاصل ہے؟ کیا رشوت نہ دینا جرم بن چکا ہے؟ اور کیا پولیس واقعی طاقتور مافیا کے سامنے مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے؟ متاثرہ شہری نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ SHO کو فوری طور پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے، لوٹی گئی رقم برآمد کروائی جائے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ واقعہ نہ صرف میونسپل کارپوریشن ملتان کی مبینہ غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا کھلا ثبوت ہے بلکہ ریاستی رٹ، قانون کی عملداری اور شہریوں کے تحفظ پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو کل کوئی بھی شہری اس سرکاری بدمعاشی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں میونسپل کارپوریشن کے CO اقبال خان کی سر پرستی میں چلنے والے بھتہ خور گروہ کے سربراہ منیر احمد سے رابطہ کیا گیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں