تازہ ترین

میلسی ریلوے اراضی میں اقرباپروری، کم ریٹ الاٹمنٹ، مافیا سرگرم، عدالتی فیصلے روند دیئے

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ملتان ریلوے ڈ و یژ ن میں واقع ریلوے سٹیشن میلسی کے قریب قیمتی کمرشل اراضی پر گزشتہ دو دہائیوں سے جاری مبینہ کرپشن، اقربا پروری اور ریونیو نقصان کا بڑا سکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سال 2005 سے محکمہ ریلوے کی ملکیتی اس اراضی پر غیر معمولی سرگرمیاں جاری ہیں جہاں 2013 میں 40 افراد کے نام پر لیز الاٹ کی گئی جبکہ اس جگہ پر مبینہ طور پر لاکھوں روپے سے زائد مالیت کی کمرشل جگہ پرسبزی، فروٹ اور مرغی فروشوں کے سٹالز قائم ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 2018 کے بعد سے اس کمرشل اراضی کا ریگولر کرایہ وصول ہی نہیں کیا جا رہا جس کے باعث محکمہ ریلوے کو لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کے ریونیو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حیران کن طور پر یہ سب کچھ ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جسٹس چوہدری سلطان کے واضح عدالتی احکامات کے باوجود جاری رہا۔عدالتی حکم کے مطابق محکمہ ریلوے کو سابقہ لیزرز سے مارکیٹ ویلیو کے مطابق کرایہ وصول کرنے اور انہیں بے دخل نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم محکمہ ریلوے نے عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کرنے کے بجائے نو سالہ کرایہ کا نوٹ آف کلیم لیزر کو بھجوا دیا دوسری جانب لیزرز نے عدالتی احکامات کے تحت دو سال کا کرایہ میلسی ریلوے اسٹیشن پر، جبکہ ایک سال کا کرایہ مسلم کمرشل بینک، ہائی کورٹ برانچ میں جمع کروایا۔ اس کے علاوہ سابقہ چھ سال کا کرایہ (تقریباً 62 لاکھ روپے) جمع کروانے کے لیے لیزرز متعدد بار ڈی ایس آفس اور ڈپٹی پراپرٹی اینڈ لینڈ ملتان کے چکر لگاتے رہےمگر تاحال وصولی ممکن نہ ہو سکی۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ اسی قیمتی رقبے کا ایک حصہ کم ریٹ پر ایک بااثر فرد (را نااقبال) کو الاٹ کر دیا گیاحالانکہ میلسی ریلوے اسٹیشن کے مشرقی و مغربی اطراف کے لیزرز زیادہ کرایہ جمع کروانے پر آمادہ تھے۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر ریلوے افسران اور ڈپٹی پراپرٹی اینڈ لینڈ کی ملی بھگت سے کم ریونیو دینے والوں کو ترجیح دی گئی۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس اہم کمرشل جگہ پر متعدد افراد قابض ہیں جو کم کرایہ پر ریلوے اراضی لیز پر لے کر آگے لاکھوں روپے میں سب لیز دے رہے ہیں اور کھلے عام مشتری منادی کی جا رہی ہے، جس سے ریلوے کو مزید مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔ہائی کورٹ کے احکامات کی مبینہ توہین اور شفافیت کے فقدان پر سابقہ لیزرز نے سی ای او پاکستان ریلوے، ڈی جی ویجیلنس اور ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ کو تحریری درخواستیں دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ہائی کورٹ کے احکامات پر فوری عملدرآمد کیا جائےزیادہ ریونیو دینے والے لیزرز کو ترجیح دی جائےذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائےقومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کر کے ریکوری کی جائےعوامی و سماجی حلقوں نے بھی اس سنگین معاملے پر اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ اسکینڈل محکمہ ریلوے کی ساکھ پر ایک اور بڑا سوالیہ نشان بن جائے گا۔
میلسی ریلوے اراضی

شیئر کریں

:مزید خبریں