’’ماچس کی تیلی وہی جلتی ہے جس پر مصالحہ لگا ہو‘‘
یہ ملتان کے ایک اخبار کے بڑے افسر کا کمرہ تھا ۔’’صاحب‘‘ نے میری سی وی پر دوبارہ ایک ا چٹتی سی نظر ڈالی اور بولے:’’ میں نے چیف رپورٹر سے پوچھا ہے، انہوں نے انکار کر دیا ہے‘‘۔’’ صاحب‘‘ نے کہا ماچس کی تیلی وہی جلتی ہے جس پر مصالحہ لگا ہو۔ فی الحال ہمارے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے یہ کہہ کر انہوں نے سگریٹ کا لمبا ساکش لیا اور دھواں فضا میں بکھیر دیا۔ دھوئیں کی دوسری طرف یہ سن کر میرا دماغ دھواں دھواں ہو گیا۔ ایم اے ماس کمیونیکیشن کی ڈگری اور دیگر کاغذات پکڑے ہارے ہوئے جواری کی طرح صاحب کے کمرے سے باہر نکل آیا ۔
زکریا یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم ایم اے ماس کمیونیکیشن کے دوران ہمارے ایک لیکچرر نے کہا تھا جب عملی میدان میں جاؤ تو اخبار کی نوکری آپ لوگوں کی آخری چوائس ہونی چا ہئے لیکن رزق اس شعبے میں لکھا تھا چنانچہ آخری کے بجائے یہ پہلی چوائس بن گئی۔یہ2004کےآخری مہینوں کی بات ہے۔ اس دن ہم تین دوست اس اخبار کے دفتر اپنی سی وی اور کاغذات لے کر نوکری کی تلاش میں آئے تھے ۔استقبالیہ کلرک نے بتایا کہ صاحب ابھی مصروف ہیں، چنانچہ ہم تینوںساتھ والے بوسیدہ سے مکان میں قائم کینٹین پر بیٹھ کر چائے پانی پی کر وقت گزارتے رہے۔ جب کافی دیر ہو گئی تو ایک دوست جو رانا ہے ،روایتی غصے میں آگیا اور بولا یہ کیا طریقہ ہے، ہم کب سے انتظار کر رہے ہیں، یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ وہ خوش نصیب ہی ثابت ہوا اس کے بعد اس نے پولٹری کے کاروبار میں قدم رکھ دیا اور آج ماشاءاللہ لینڈ لارڈ بن گیا ہے۔ دوسرا دوست بھی انتظارکرکرکے مایوس ہو کر چلا گیا اور پھر سوشل سیکٹر جوائن کر لیا اور پھر اسی کا ہو کر رہ گیا۔ آخر کار کئی گھنٹے انتظار کے بعد استقبالیہ کلرک نے بلا کر اندر صاحب کے پاس بھیجا اور جو اس کے بعد ہوا وہ بین السطور میں لکھ چکا ہوں۔
میرا رزق صحافت میں لکھا تھا، چنانچہ اسی کا ہو کر رہ گیا ۔صاحب کی وہ بات ذہن کے کسی گوشے میں چپک کر رہ گئی وہ محض ماچس اور مصالحہ کی بات نہ تھی، ایک بارود کی ڈھیری تھی جو دماغ کو کچوکے لگاتی تھی جوہمیشہ آگے بڑھنے میں مدد کرتی رہی کہ کبھی تو وہ دن آئے گا جب میں اس بات کو غلط ثابت کر سکوں گا۔ اس اخبار میں تو نوکری نہ ملی نہ ہی کبھی اس کے بعد آفر ملنے کے باوجود اس میں جانے کا سوچا مگر اس دوران میں صحافت میں قدم رکھ چکا تھا ۔سابقہ کالم میں مختلف اداروں میں کام کی تفصیل لکھ چکا ہوں، آج صرف ان گوشوں سے پردہ ہٹانا چاہتا تھا جو آگے بڑھنے میں مدد دیتے رہے،جومجھے موٹیویشن دیتےرہے۔ سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں جب تک آپ سیف موڈ(Safe zone) یاکمفرٹ زون میں رہتے ہیں، آپ آگے نہیں بڑھ پاتے۔ جونہی زندگی چیلنجنگ ہوتی ہے اور آپ کو لگتا ہے آپ کی بقا کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہےتو انسان ہاتھ پاؤں مارتا ہے جس سے وہ تیر بھی جاتا ہے اور تر بھی جاتا ہے۔
صحافت میں باقاعدہ نوکری کا آغاز 2005 میں ملتان سے شروع ہونے والے ایک قومی اخبار سے کیا ۔اس سے قبل چند مقامی اخبارات میں’’ فی سبیل اللہ‘‘ کام کیا مگر تنخواہ کے معاملات نہ ہونے پر چھوڑ دیا ۔نئےشروع ہونے والے قومی اخبار میں نوکری کے لئے انٹرویو دیا اور انہوں نے سب ایڈیٹر رکھ لیا۔ چند ماہ بعد اس اخبار میں ڈاؤن سائزنگ شروع ہو گئی، کافی لوگوں کو نکال دیا گیا۔ نیوز ایڈیٹر نے مجھے علیحدہ کمرے میں لے جا کر کہا :’’بندے کم کرنے ہیں، فی الحال گنجائش نہیں‘‘، یہ سن کر میرا چہرہ لٹک گیا۔نیوز ایڈیٹر نے پھر کہا کہ: دوسری آپشن یہ ہے کہ یا تو ایڈیٹر صاحب کے پی اے کی سیٹ خالی ہے یا پھر پروف ریڈنگ کرنی ہے تو اس میں جگہ بنا دیتا ہوں، مرتا کیا نہ کرتا ، پروف ریڈنگ کیلئے حامی بھر دی۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے پھر جا کر پروف ریڈنگ شروع کر دو ،میں ٹوٹے ہوئے دل سے مڑا اور پروف ریڈنگ ڈیسک پر جا بیٹھا۔
اخباری فیلڈ سے وابستہ لوگوں کو اخبارات کے دفاتر کی رونق یاد ہوگی ۔نیوز روم میں مختلف میزوں کے گرد کرسیاں لگی ہوتی تھیں اور انہیں ڈیسک کہا جاتا تھا۔ اُس وقت عموماً ہر اخبار میں نیوز روم سٹی ڈیسک (ملتان)، سیمی لوکل ڈیسک( ملتان کے مضافات) ڈاک ڈیسک (دور دراز جنوبی پنجاب) اور مین ڈیسک( فرنٹ، بیک) پر مشتمل ہوتا تھا۔ وقت کا دھارا بدلا تو اب صرف چند کرسیاں اور میز ہی باقی ہے۔بیشتراخبارات میں ڈیسک کا تصور مٹ چکا ہے۔ جس طرح دنیا سمٹ چکی ہے ویسے ہی اخبارات، دفاتر اور عملہ بھی سمٹ چکا ہے ۔
بات کہیں سے کہیں چلی گئی۔ پروف ریڈنگ پر اس وقت ہم تین لوگ ہوتے تھے۔ اس دوران اس اخبار میں بھی کئی تبدیلیاں آئیں۔ نیوز ایڈیٹر بھی تبدیل ہو گئے۔ اب اخبار میں ا سرار احمد چشتی صاحب نیوز ایڈیٹر بن کر آئے تھے۔ اسرار چشتی صاحب کا خاصہ یہ ہے کہ وہ الفاظ سے کھیلتے ہیں، جونیئرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، حوصلہ شکنی نہیں کرتے۔ جونیئر کی سرخی میں کچھ الفاظ کاٹ کر کچھ اپنے ڈال کر اس میں نئی جان ڈال دیتے ہیں۔ نیوز روم میں پہلے والی خوف و ہراس کی فضا بھی ختم ہو چکی تھی مگر میرا ابھی پروف ریڈنگ والا امتحان ختم نہیں ہوا تھا۔ ایک دن جب سب لوگ سیمی لوکل کاپی چھپنے کے لئے بھیج کر بریک پر گئے تو میں نے ایک کاغذ کی پرچی اپنے بارے میں لکھ کر اسرارچشتی صاحب کے حوالے کی کہ میری تعلیم ایم اے ماس کمیونیکیشن ہے ۔مجھے پروف ریڈنگ پر بٹھا رکھا ہے۔ مجھے سب ایڈیٹنگ سے ہٹایا گیا تھا، مجھے واپس موقع دیں۔ اسرار چشتی صاحب میرے لئے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئے اور انہوں نے فوری طور پر مجھے پروف ریڈنگ سے ہٹا کر سب ایڈیٹر کے طور پر سیمی لوکل ڈیسک پر دوبارہ رکھ لیا ۔یہ اللہ کی مددسے میری کامیابی کا پہلا قدم تھا ۔(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری کہانی (دوسری اورقسط)
میں شروع میں لکھ چکا ہوں کہ ہم جب تک کمفرٹ زون، سیف موڈ یعنی آرام پرستی یا محفوظ زون میں رہتے ہیں تو آگے نہیں بڑھ پاتے، چیلنجز ہی آگے لے کر جاتے ہیں۔ اس دوران اس اخبار میں تبدیلی کا عمل جاری رہا اور اسرار چشتی صاحب کی جگہ چودھری سلیم سندھو صاحب نے سنبھال لی ۔سلیم سندھو صاحب ذات کے چودھری ہیں مگر ان میں عاجزی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ روایتی چودھراہٹ انہیں چھو کر بھی نہیں گزری۔ ان سے واقف اور ان کے دوست احباب بھی اس بات کی گواہی دیں گے ۔سیمی لوکل ڈیسک پر ہم اندرونی صفحات بناتے تھے۔ سلیم سندھو صاحب ان صفحات کو چیک کر کے اوکے کرتے تھے ۔میں ان دنوں سیمی لوکل ڈیسک کا انچارج تھا۔ استادوں کی تعلیم اور ڈگری کا اثر تھا کہ سرخیاں ’’اللہ ولوں‘‘ اچھی بن جاتی تھیں ۔سلیم سندھو صاحب صفحہ پروف کرتے ہوئے کئی خبریں اندرونی صفحےسے اتروا کر فرنٹ بیک صفحے کے لئے لے لیتے تھے۔ اس بات پر غصہ بھی آتا تھا کہ اتنی محنت سے بنائی ہوئی خبریں اپنے صفحے پر لے لی۔ پہلےیہ خبر نظر نہیں آئی تھی؟ ۔یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا۔ آخر کار ایک دن سلیم سندھو صاحب نے مجھے کہا: دستگیر کل سے آپ نے مین ڈیسک پر آنا ہے۔ چودھری صاحب کا یہ اعلان مجھ پر بم بن کر گرا ،غصہ بھی بڑاآیا ،سارا ’’سیف موڈ‘‘ ختم ہو گیا ۔سیمی لوکل ڈیسک پر دن تین بجے آتے تھے ۔رات نو بجےصفحے دیکر گھر نکل جاتے تھے،یہ جااوروہ جا، مین ڈیسک کی ڈیوٹی شام چھ بجے شروع ہوتی اور رات دو سے ڈھائی بج جاتے تھے ۔یہ سوچ کر ہی ہول آرہا تھا کہ اتنی دیر سے واپسی، کھانا بھی باہر سے کھانا پڑے گا ۔مرتا کیا نہ کرتا، اگلے دن شام چھ بجے مین ڈیسک پر جا بیٹھا ،کام شروع کر دیا اورسلیم چودھری صاحب کے اعتماد پر پورا اترا ۔شروع میں کئی دن انہیںکوستا رہا مگر پھر کام کی روٹین بن گئی اور دل بھی لگ گیا۔کچھ دن کھانا باہر سے کھایا مگر جیب نے اجازت نہ دی چنانچہ پھر کھانا رات کو واپس جا کر ڈھائی تین بجے کھانے کی عادت بن گئی جو اخبارات کے عروج والی ٹائمنگ تک برقرار رہی ۔اب اخبارات جلدی تیارکئے جاتے ہیں۔ یہ میری کامیابی کی دوسری سیڑھی تھی جو اللہ کےفضل و کرم سے طے ہوئی۔
آج میں سوچتا ہوں، چودھری سلیم سندھو مجھے سیمی لوکل ڈیسک سے مین ڈیسک پر نہ لے کر آتے تو آج میں اس مقام پر نہ ہوتا ،بعد میں اللہ تعالی نے اس اخبار میں مجھے بھی نیوز ایڈیٹر بننے کا موقع دیا اورایڈیٹراوراخبارکے معیارواعتمادپرپورااترا۔اس اخبار سے سات سال وابستہ رہا ،بعد میں کئی سال بعد بھی اس اخبارمیں چند ماہ کام کا موقع ملا ۔
صحافت میں آگے بڑھنے کی تیسری سیڑھی پر قدم الیاس دانش صاحب کی انگلی پکڑ کر رکھا۔ 2012 میں پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کا حصہ بننے کی جو خوشی ہوئی تھی وہ آج تک ختم نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت صرف دو ہی اخبارات ایسے تھے جن میں نوکری کو سرکاری نوکری کے مترادف قرار دیا جاتا تھا جن میں سر فہرست یہ اخبار تھا ۔یہاں الیاس دانش صاحب نیوز ایڈیٹر تھے اور ہیں، انہوں نے مجھے بہت سہارا دیا ۔پہلے دن سے مین ڈیسک پر رکھا اور اہم ایشوز پر سرخیاں بنواتے۔ الفاظ سے کھیلنے کا ہنر اس اخبار اور الیاس دانش صاحب کی زیر سرپرستی کام کر کے جانا ۔اس اخبار میں چار سال کام کیا، 2015 میں ایک نئے شروع ہونے والے اخبار سے نیا سفر 2018 میں تبدیلی سرکار کے آنے کے بعد اخبارات کے دفاتر بند ہونے پرایک اوربڑےاخبارسےڈائون سائزنگ کے نتیجے میں سٹیشن بندہونےپر منتج ہوا ۔اس دوران کٹی پتنگ کی طرح ایک ادارے سے دوسرے ادارے، ایک شہر سے دوسرے شہر میں رزق کی تلاش کاسفر جاری رہا۔
دسمبر میرے لئے کئی لحاظ سے خوش قسمت ثابت ہوا ۔پہلے پہل تو میرا جنم دن اسی مہینے میں آتا ہے اور میری اکلوتی بیٹی کا جنم دن بھی اسی مہینے میں ہے۔ دسمبر 2022 میں ہی روزنامہ قوم کا حصہ بنا اور ڈپٹی اڈیٹرسیدقلب حسن صاحب سے معاملات طے ہونےکے بعدچیف ایڈیٹر میاں غفار صاحب نے نیوز ایڈیٹر کے طور پر رکھ لیا۔اس دوران ایک سال بعد گروپ ایڈیٹر میاں قاسم نواز صاحب ملتان چھوڑ کر لاہور منتقل ہو گئے اور انہوںنے اپنی جگہ مجھے چیف نیوز ایڈیٹر بنانے کی سفارش کی ۔بقول قاسم نواز صاحب: میاں غفار صاحب نے پوچھا تھا’’ اے منڈا کر لے گا؟‘‘ تو میں نے کہا:’’ جی میاں صاحب، تسی فکرای نہ کرو ‘‘۔
یہ میری صحافت میں آگے بڑھنے کی چوتھی سیڑھی تھی جس پر میں میاں قاسم نواز صاحب کا تاحیات مشکور رہوں گا ۔میاں قاسم نواز صاحب کے جانے کے بعدمیں نے روزنامہ قوم کی مین سیٹ کی ذمہ داری سنبھال لی اور نیک نیتی سے کام جاری رکھا جس کا صلہ اللہ نے یہ دیا کہ دسمبر 2024 کے انہی دنوں میں مجھ ناچیز کو چیف ایڈیٹر میاں غفار صاحب نےا یڈیٹر بنانے کی منظوری دے دی۔ اس دن جو خوشی ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ اللہ نے عزت رکھی اور کام اسی طرح جاری رہا ،پہلے سے بڑھ کر محنت کرنے کی کوشش کی اور پھر اس کا صلہ اللہ نے یہ دیا کہ سات دسمبر 2025 کو چیف ایڈیٹر میاں غفار صاحب نے مجھ ناچیز کو گروپ ایڈیٹر بنانے کی منظوری دے دی ۔یہ میرے لئے بھی سرپرائز تھا جو قابل احترام ڈپٹی ایڈیٹر سید قلب حسن صاحب نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ میاں غفار صاحب نے آپ کو گروپ ایڈیٹر بنانے کی منظوری دے دی ہے، پرنٹ لائن میں بھی تبدیلی کروا لیں۔ اپنا عہدہ ایڈیٹر سے گروپ ایڈیٹر کر لیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس’’ بے پٹاس ماچس کی تیلی ‘‘کو مہربانوں کے دیئے سے دیا جلائے رکھنے نے اس مقام پر پہنچایا۔ الحمدللہ گروپ ایڈیٹر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ یقین کامل ہے کہ اللہ کی مدد سے میاں غفار صاحب اور سید قلب حسن صاحب کے اعتماد پر پورا اتروں گا اور روزنامہ قوم کی مزید کامیابی کے لئے اپنی ہر ممکن کوشش کروں گا ۔چند دن بعد29دسمبرکو روزنامہ قوم تین سال کا ہونے والا ہے۔ 2022 میں ملتان سے لگایا جانے والا میاں غفار صاحب کا پودا ان تین سالوں میں تناور درخت بن چکا ہے۔ علمی، ادبی، صحافتی، انتظامی اور کاروباری حلقوں میں’’ قوم‘‘ اپنی معیاری اور بے باک صحافت کی وجہ سے اپنا اعلیٰ مقام بنا چکا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ کامیابی کا سفر اسی طرح جاری و ساری رہے۔ آمین۔







