مہنگے کھانے،بچوں،دوستوں کیلئے تحائف ،25 لاکھ ڈکار کر قتل کے تفتیشی نے ٹرانسفر کرالی،مظلوم در بدر

مہنگے کھانے،بچوں،دوستوں کیلئے تحائف ،25 لاکھ ڈکار کر قتل کے تفتیشی نے ٹرانسفر کرالی،مظلوم در بدر

ملتان( سٹاف رپورٹر) انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کی طرف سے پولیس کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں تفتیش کے حوالے سے جدید ترین ٹیکنالوجی ، تکنیک اور چیکنگ و نگرانی کے موثر نظام کو اپنانے کے حکم پر بہاولپور پولیس نے اپنی مرضی کے مطلب کا لباس پہنادیا۔ قتل کی ایک تفتیش میں تفتیشی نے اپنے انداز تفتیش میں دوستوں کے ہمراہ مہنگے ہوٹلوں میں کھانے ، بچوں کے لئے پیزے، سوپ اور گرم سویٹر بھی تفتیش کا لازمی حصہ بنا دیئے۔ تھانہ ڈیراور تحصیل یزمان کے مقدمہ قتل نمبر325/24 میں 19 سالہ دودھ کا علاقے کے سب سے بڑے کولیکشن نیٹ ورک چلانے والے مقتول محمد فاروق اسلم کے قتل کی تفتیش میں ان اخراجات کو کچھ اس طرح شامل کئے رکھا کہ مقتول کے والد محمد اسلم کو اب تک بیٹے کے قتل کی تفتیش پر 25 لاکھ خرچ کرنےپڑ گئے ہیں اور سابق تفتیشی حافظ انیس طیب نے یہ سارے اخراجات کرانے کے بعد تفتیش کو تباہ اور مقدمہ کو برباد کرکے اپنی ٹرانسفر کرالی۔ چولستان کے مختلف ٹوبوں سے اپنے ملازمین کیلئے دودھ کی کولیکشن کا نیٹ ورک چلانے والے فاروق اسلم نے بعض غریب لوگوں کو بھینس گائے خریدنے کیلئے پیسے دے رکھے تھے ۔انہی میں سے ایک گھرانے کے عبدالمالک قریشی کی طرف جب 5 لاکھ کی رقم ہوگئی تو انہوں نے پیسے دینے سے انکار کرتے ہوئے دودھ کسی دوسری پارٹی کو دینا شروع کردیا جس پر دونوں کے درمیان تکرار ہوئی تو عبدالمالک قریشی نے اپنی اہلیہ سے مل کر فاروق کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بنایا اور رمضان نامی گوالے کے ذریعے فاروق اسلم کو پیغام بھجوایا کہ آکر اپنے پیسے لے جائے کیونکہ ہم نے دودھ دینے والے جانور فروخت کردیئے ہیں۔ فاروق جب رقم لینے پہنچا تو عبدالمالک نے اپنے ہی گھر میں اس کے سر میں گولیاں مار کر اسے قتل کردیا اور ڈھونگ رچایا کہ فاروق نے خود کشی کرلی ہے کیونکہ وہ میری اہلیہ سے چھیڑ خانی کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا جس پر شرمندگی میں اس نے اپنے ہی پسٹل سے خود کو گولی مار لی ہے۔ پولیس اور لواحقین جب جائے وقوعہ پر پہنچے تو فاروق کی لاش دیوار کے ساتھ ٹیک لگی ہوئی تھی اور پسٹل اس کی پیٹھ کے نیچے پڑا ہوا تھا جوکہ کسی بھی طور پر سر میں گولی مارنے کے بعد وہ اپنے نیچے نہیں رکھ سکتا تھا۔ پھر لاش کی حالت بتا رہی تھی کہ اسے بعداز قتل دیوار کے ساتھ بٹھایا گیا ہے ۔ تھانہ ڈیراور پولیس نے مقدمہ درج کرکے اسے خود کشی کا رنگ دینے کیلئے پسٹل فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھجوایا حیران کن طور پر اس پر کسی کے بھی نشانات نہ پائے گئے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد اور جب تفتیش حافظ انیس طیب کے پاس آئی تو ان کی لاٹری لگ گئی۔ مقتول کے والد کو ہفتے میں دو تین بار نئے ماڈل کی گاڑی لانے کو کہا جاتا اور پھر آٹھ دس دوستوں کو احمد پور شرقیہ یزمان اور بہاولپور کے مہنگے ہوٹلوں میں دعوت دے کر بلایا جاتا اور 20 سے 25 ہزار کا بل مقتول کے والد محمد اسلم کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا پھر رات کو حافظ انیس کو گھر چھوڑنے جاتے تو ان کے بچوں کیلئے پیزا اور دیگر سامان کے علاوہ ریڈی میڈ گارمنٹس بھی مدعی مقدمے ہی کے ذمے ڈال دیئے جاتے، محمد اسلم نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ ان کے بیٹے کے قتل کے سانحے کو 5 ماہ گزر چکے ہیں۔ ابھی تک تفتیش پر ان کا 25 لاکھ خرچ ہوچکا ہے اور تفتیش کو برباد کرنے کے بعد حافظ انیس طیب بہاولپور ہی چھوڑ کر جاچکا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں