چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-چولستان وٹرنری یونیورسٹی، بیرونی سپانسر شپ سے منعقد ایکسپو کیلئے طلبہ سے لاکھوں کی وصولی-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-لودھراں: پیرافورس، ٹریفک جرمانے، تاجروں کا صبرختم، ہڑتال کا اعلان-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-ونڈر بوائے کی پھر گونج، اپوزیشن لیڈرز تعیناتی کے بعد ن لیگ سے نیا وزیر اعظم آ سکتا ہے، محمد علی درانی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-مظفرگڑھ: ستھرا پنجاب پروگرام میں "مٹی پاؤ" پالیسی، 600 ٹن ہدف کیلئے زمینوں کی کھدائی-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور-کوہِ سلیمان کے درےسمگلرز کے محفوظ راستے، گدھوں پر نان کسٹم مال منتقل، ریاستی رٹ کمزور

تازہ ترین

مودی سرکار کا “آپریشن مہادیو” حقیقت یا سیاسی ڈرامہ؟ اپوزیشن کا شدید ردعمل

بھارتی حکومت نے اچانک پہلگام حملے کے بعد “آپریشن مہادیو” کا آغاز کر دیا، جسے مبصرین کی جانب سے اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کی چال قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حملے کے 100 روز بعد عوامی غصے اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں دعویٰ کیا کہ تین مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، تاہم اپوزیشن نے اس بیان کو “جعلی مقابلہ” قرار دیا اور مودی حکومت پر شدید تنقید کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کو مہادیو جیسے مذہبی نام سے منسوب کرنا محض ہندوتوا جذبات کو بھڑکانے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔
تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی تک نہیں کی، جب کہ پہلگام حملے میں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی نمایاں ہے۔ اگر واقعی حملے کی پیشگی اطلاع موجود تھی تو دہشت گرد حساس مقام تک کیسے پہنچے؟ سیٹلائٹ نگرانی کے دعووں کے باوجود دہشت گردوں کی موجودگی کا علم نہ ہونا سیکیورٹی نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پہلگام جیسے اہم سیاحتی علاقے پر حملے کے بعد موثر ردعمل نہ آنا بھی بھارتی ریاستی اداروں کی تیاری پر سوال اٹھاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چاہے وہ “آپریشن مہادیو” ہو یا ماضی کا “آپریشن سندور”، مودی سرکار اپنے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت بیانیہ سازی اور جذباتی حربوں کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ حملے کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں