اسلام آباد: سوشل میڈیا اور مختلف میسجنگ ایپس پر گردش کرنے والے ایک مبینہ نوٹس نے شہریوں میں کنفیوژن پیدا کر دی، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے درآمد شدہ اور رجسٹرڈ موبائل فونز پر عائد ٹیکس میں کمی کر دی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اس وائرل پیغام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موبائل فونز پر ٹیکس میں کسی قسم کی رعایت کا نہ تو کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پیغام اردو اور انگریزی زبان میں ’’قدر دان صارفین‘‘ کے نام سے شیئر کیا جا رہا تھا، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ مجوزہ ٹیکس رعایت صرف قانونی درآمد کنندگان اور رجسٹرڈ ڈیلرز کے لیے ہوگی، جبکہ عام صارفین یا ذاتی استعمال کے لیے فون منگوانے والوں پر پرانا ٹیکس نظام ہی نافذ رہے گا۔ پیغام کے آخر میں لوگوں کو غیر ضروری سوالات سے گریز اور وضاحت کو قبول کرنے کی ہدایت بھی کی گئی، تاکہ اسے سرکاری اعلامیے کی شکل دی جا سکے۔
پی ٹی اے نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ درآمد کنندگان ہوں یا عام صارفین، موبائل فونز سے متعلق ٹیکس پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی اور موجودہ قوانین بدستور نافذ ہیں۔
اتھارٹی نے عوام، کاروباری حلقوں اور موبائل فون درآمد کرنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جعلی اور غیر مصدقہ پیغامات پر کان نہ دھریں اور ایسی معلومات آگے پھیلانے سے اجتناب کریں، کیونکہ اس طرح کی افواہیں مارکیٹ میں بے یقینی اور انتشار پیدا کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فونز پر زیادہ ٹیکس کے باعث پہلے ہی عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی نوٹیفکیشن پھیلائے جاتے ہیں اور سرکاری زبان استعمال کر کے صارفین کو گمراہ کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ خریداری مؤخر کر دیتے ہیں۔
پی ٹی اے نے یاد دہانی کرائی ہے کہ ٹیکس، رجسٹریشن یا درآمدی پالیسی سے متعلق کسی بھی سرکاری فیصلے کا اعلان صرف ادارے کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کیا جاتا ہے، اس لیے کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔
Fake Notification Alert
— PTA (@PTAofficialpk) January 22, 2026
Islamabad, (22 January, 2026): A fake notification is circulating on social media regarding an alleged reduction in mobile taxes and instructions for mobile phone importers and consumers. This information is entirely false and misleading.
PTA has issued… pic.twitter.com/8KGGXohjUQ







