حکومت پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ انتہائی خوش آئند اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس میں غیر قانونی ذرائع سے بیرون ممالک رقوم بھجوانے والے بڑے کاروباری افراد اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی دراصل قومی معیشت کی دو سب سے بڑی بیماریاں ہیں۔ ان غیر قانونی ذرائع سے نہ صرف قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے بلکہ ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے اور کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان سے ہر سال اربوں ڈالر کی رقم غیر قانونی ذرائع سے باہر بھیجی جاتی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے زہر قاتل ہے۔حکومت کا یہ فیصلہ کہ اس ضمن میں کسی بھی بڑے فرد یا ادارے کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، انتہائی اہم ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ بڑے منی لانڈرز اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے قانون کی گرفت سے بچ جاتے تھے اور صرف چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد پکڑے جاتے تھے۔ حکومت کو اس عزم پر قائم رہنا ہوگا اور بلا امتیاز تمام عناصر کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔رقوم کی ترسیل صرف بینکنگ اور دیگر قانونی چینلز کے ذریعے کرنے کا فیصلہ بھی درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ اس سے نہ صرف غیر قانونی ذرائع کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ بینکاری نظام میں شفافیت بھی آئے گی۔ منی چینجرز کے ذریعے رقوم کی ترسیل کے عمل کو اسٹریم لائن کرنے کا فیصلہ بھی اہم ہے تاکہ ان کے ذریعے بھی کوئی غیر قانونی سرگرمی نہ ہو سکے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) پر مشتمل جوائنٹ ورکنگ گروپ کا قیام ایک مثبت اقدام ہے۔ دونوں اداروں کے اشتراک سے منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ زیادہ مؤثر طریقے سے لڑی جا سکے گی۔ اس ورکنگ گروپ کو باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے چاہئیں اور پیش رفت کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔تاہم صرف اقدامات کرنا کافی نہیں، ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کے کئی فیصلے کیے گئے لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بار یقینی بنائے کہ تمام فیصلوں پر سختی سے عمل کیا جائے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے بھی پاکستان سے منی لانڈرنگ کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی یہ کوشش عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ بہتر کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔منی لانڈرنگ کا مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ عوام میں بھی شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ غیر قانونی ذرائع سے رقوم کی ترسیل سے گریز کریں اور قانونی چینلز استعمال کریں۔ اسی طرح بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ مشکوک لین دین کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔حوالہ ہنڈی کا کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ نظام نہ صرف قومی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ دہشت گردی کی مالی معاونت میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے اور اس میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائے۔آخر میںہم حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس بار واقعی منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے خلاف مؤثر کارروائی ہوگی اور ان بیماریوں سے پاکستان کی معیشت کو نجات ملے گی۔ یہ نہ صرف معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ ملک میں کرپشن کے خاتمے اور انصاف کے قیام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نیک کام میں حکومت کو کامیابی عطا فرمائے۔







