تازہ ترین

ممتازآباد: کارپوریشن آفس تجاوزات کا مضبوط گڑھ، افسران کی مٹھی گرم، قانون نرم

ملتان (سٹاف رپورٹر) میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان کے مین آفس کے باہر اور اس کے گرد و نواح میں تجاوزات کی جو کھلم کھلا بھرمار جاری ہے وہ نہ صرف شہری انتظامیہ کی نااہلی بلکہ ادارہ جاتی کرپشن کی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جس جگہ سے تجاوزات کے خاتمے کے احکامات جاری ہونے چاہئیں وہی جگہ تجاوزات کا سب سے محفوظ گڑھ بن چکی ہے۔ مین آفس کے باہر دیوار کے ساتھ روزانہ شام کے اوقات میں تجاوزات کی بھرمار ہو جاتی ہے جو رات گئے تک جاری رہتی ہے، اور یہ سب کچھ میٹروپولیٹن کے افسران کی مکمل اجازت اور سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق تجاوزات پر مامور افسران جن میں مظہر نواز خان کی سربراہی نمایاں طور پر شامل ہے، تجاوزات ختم کرنے کے بجائے خود ان کے محافظ بن چکے ہیں۔ یہ افسران دکانداروں اور ریڑھی بانوں سے کھلم کھلا منتھلیاں طے کر کے انہیں تجاوزات قائم رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ تجاوزات پر مامور اہلکار سرعام یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ “حصہ اوپر تک جاتا ہے”، جس سے چیف آفیسر سمیت اعلیٰ افسران کی مبینہ شمولیت پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے دفتر سے محض سو میٹر کے فاصلے پر واقع فیصل مختار پارک بھی تجاوزات کی نذر ہو چکا ہے، جہاں پارک کی دیوار کے ساتھ ساتھ اس کی حدود کے اندر پکی دکانیں تعمیر کروا کر سرکاری زمین پر باقاعدہ قبضہ کروایا گیا ہے۔ ان دکانوں سے بھی منتھلیاں وصول کی جا رہی ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تجاوزات محض غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم مالی نظام کے تحت پروان چڑھ رہی ہیں۔ اسی طرح ممتاز آباد میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مین آفس کے ساتھ واقع ممتازآباد مارکیٹ اور گول پلاٹ مارکیٹ کی حالت یہ ہے کہ تجاوزات کے باعث عام آدمی کا گزرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہو چکا ہے۔ فٹ پاتھ ناپید، سڑکیں سکڑ چکی ہیں اور شہری اذیت ناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ تجاوزات مافیا بے خوف و خطر سرگرم ہے۔ ذرائع یہ بھی انکشاف کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو کارکردگی دکھانے کے لیے وقتاً فوقتاً چند چھوٹے موٹے تجاوزات آپریشن کیے جاتے ہیں، تصاویر بنوائی جاتی ہیں اور میڈیا کو دکھا کر واہ واہ سمیٹی جاتی ہے، مگر چند ہی دنوں بعد انہی تجاوزات کو دوبارہ اجازت دے دی جاتی ہے۔ اس تمام عمل کا مقصد صرف کاغذی کارکردگی دکھانا اور اصل کرپشن کو پردے میں رکھنا ہوتا ہے۔ حیران کن طور پر تجاوزات کی منتھلیاں براہِ راست وصول کرنے کے بجائے مارکیٹوں کے صدور کے ذریعے اکٹھی کی جاتی ہیں تاکہ ریکارڈ میں یہ تاثر دیا جا سکے کہ سب کچھ قانون کے مطابق ہو رہا ہے اور ادارہ کرپشن سے پاک ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ملتان کے شہری سوال کر رہے ہیں کہ اگر میٹروپولیٹن کارپوریشن کا اپنا مین آفس تجاوزات سے محفوظ نہیں، تو پھر شہر کے دیگر علاقوں میں قانون کی عملداری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نمائشی کارروائیوں کے بجائے میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان میں موجود اس منظم تجاوزات اور کرپشن نیٹ ورک کے خلاف فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں