ملتان،اسلام آباد(قوم نیوز،بیورورپور ٹ ، نمائندگان)پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے کہا ہے کہ ملک میں پٹرول پمپس پر قلت شروع ہونا شروع ہو گئی ہے، دوسری جانب حکومت نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسیمع خان نے کہا کہ ملک میں پٹرول کی طلب میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے ۔ مختلف پٹرول پمپس پر قلت ہونا شروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوپٹرولیم لیوی اور ٹیکسز ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ نہ کیا جائے، اس سے غریب، موٹر سائیکل سوار طبقہ شدید متاثر ہوگا۔ آئی جی سندھ پٹرول پمپس کی سکیورٹی یقینی بنائیں ۔عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ لوگ بڑی مقدار میں پٹرول پمپوں سے پیٹرول کی خریداری کر رہے ہیں ۔ حکومت پٹرولیم کے ذخائر کی وافر موجودگی پر جھوٹ بول رہی ہے۔ ڈیلرز کو اس کی اوسطاً سیل سے 50 فیصد کم پیٹرول فراہم کیا جارہا ہے۔چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ حالات بہت خراب ہیں، پٹرول پمپوں پر جھگڑے شروع ہوگئے ہیں ۔ کل ہم پر الزام عائد نہ کیا جائے کہ ہم گڑ بڑ کررہے ہیں۔پٹرول پر ٹیکس اور لیوی فوری ختم کی جائے۔ حکومت سے بات کرتے ہیں تو وہ کمیٹی بنا دیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کرنے جارہی ہے ۔ ہم اتنا مہنگاپٹرول نہیں دے سکتے یا تو ہم پٹرول پمپس بند کردیں گے۔ شہر کے متعددپٹرول پمپس ڈرائی ہورہے ہیں ۔ اس صورتحال میں امن و امان کا خطرہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔دوسری جانب جغرافیائی و علاقائی صورتحال کے پیشِ نظرحکومت نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں جو قومی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔اوگرا نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہ پر توجہ نہ دیں اور نہ ہی غیر ضروری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی خریداری یا ذخیرہ اندوزی کریں۔ترجمان نے واضح کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی یا انہیں غیر مجاز مقامات پر رکھنے میں ملوث کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بالخصوص وہ مقامات جو باقاعدہ لائسنس یافتہ آئل ڈپو یا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ریٹیل آؤٹ لیٹس کے علاوہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض عناصر ایسے حالات میں ناجائز منافع خوری کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رحجان کی روک تھام کے لیے تمام صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کو متحرک کریں تاکہ وہ معائنہ کریں اور جہاں کہیں بھی پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی پائی جائے وہاں متعلقہ مقامات کو سیل کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔مزید برآں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ٹیمیں بھی فیلڈ میں موجود ہیں ۔ آئل ڈپوز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں تاکہ فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی کی روک تھام کی جاسکے۔دوسری جانب عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی کے تناظر میں حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت توانائی نے اس حوالے سے تفصیلی ورکنگ تیار کر کے وزیراعظم کو بریفنگ دی ہے۔مجوزہ منصوبے کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین 15 روزہ بنیاد کے بجائے ہر ہفتے کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ قیمتوں کو عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق فوری طور پر ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق اس معاملے پر حتمی فیصلہ وزیراعظم اپنی معاشی ٹیم سے مشاورت کے بعد کریں گے۔اگر عالمی حالات میں کشیدگی برقرار رہی تو حکومت کی جانب سے اس نئی پالیسی پر جلد فیصلہ متوقع ہے تاکہ مقامی مارکیٹ کو عالمی قیمتوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جا سکے۔ادھرمشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث قطر سے مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد پاکستان میں گیس کے ممکنہ بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔اس ضمن میں وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی نے کھاد کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر انرجی نے گیس کی پیداوار بند کر کے بعض خریدار ممالک کو ’فورس میجر‘ کا نوٹس جاری کیا ہے، جس کے بعد عالمی گیس مارکیٹ میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران قطر کی اہم گیس تنصیبات کو لاحق خطرات اور بعض حملوں کے بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر گیس کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی جس کے نتیجے میں قطر نے اپنے کئی خریدار ممالک کو گیس کی فراہمی میں تعطل کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔قطر عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد ایل این جی فراہم کرتا ہے، اس لیے اس کی پیداواری صلاحیت میں رکاوٹ سے عالمی توانائی مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق گیس کی پیداوار مکمل طور پر بحال ہونے میں متعدد ہفتے یا ایک ماہ تک لگ سکتے ہیں، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے سے ایل این جی کارگو کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث ایشیا اور یورپ کے ممالک کو سپلائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔سنانواں سےنامہ نگار کےمطابق قصبہ گجرات اور محمود کوٹ میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران، کوٹہ سسٹم نافذپٹرول پمپ مالکان شدید پریشان؛ سپلائی نہ ہونے کے برابر، پمپ خشک ہونے کا خدشہ محمود کوٹ اور گردونواح کے آئل ڈپوز پر ڈیزل اور پٹرول کا کوٹہ سسٹم شروع کر دیا گیا ہے، جس کے باعث علاقے میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق پٹرول پمپ مالکان کو طلب کے مقابلے میں انتہائی قلیل مقدار میں سپلائی فراہم کی جا رہی ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اس صورتحال نے پٹرول پمپ مالکان کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مالکان کا کہنا ہے کہ کوٹہ سسٹم کی وجہ سے ان کے پمپ “ڈرائ” (خالی) ہونے کی نوبت پر آ پہنچے ہیں۔ اگر سپلائی کا یہی حال رہا تو آئندہ چند روز میں عوامی سطح پر ٹرانسپورٹ اور زراعت کے لیے ایندھن کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔علاقے کے پٹرول پمپ مالکان نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ کوٹہ سسٹم ختم کر کے سپلائی کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے اور کاروبارِ زندگی معطل ہونے سے بچ سکے۔







