ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مبینہ غفلت سے یونیورسٹیاں مسلسل غیر قانونی داخلے کئے جا رہی ہیں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک روایتی سا الرٹ جاری کر کےاپنے ذمہ داریوں سے جان چھڑواتے ہوئے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ اور افسوس کہ کسی بھی یونیورسٹی کے خلاف آج تک ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ سونے پر سہاگہ کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بنائی گئی پروفیشنل ڈگریز میں صرف میڈیکل، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کونسلز بہت حد تک ترقی کی جانب گامزن ہیں مگر کمپیوٹر ، بزنس، ویٹرنری ، ایگریکلچر کونسلز میں بیٹھے لاکھوں روپے کمانے والے آفیسران صرف آفس تک ہی محدود ہیں۔یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر ، بزنس، ویٹرنری ، ایگریکلچر کی ڈگریوں میں بغیر ایکریڈیشن کے دھڑا دھڑ داخلے جاری ہیں۔ ایسا ہی جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان کے نام پر قائم ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بیچلر ان بزنس ایڈمنسٹریشن میں بزنس ایجوکیشن کونسل کی منظوری کے بغیر غیر قانونی داخلے کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جو کہ طلبا و طالبات کے قیمتی وقت اور والدین کے پیسے کا ضیاع اور دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے متعدد بار جاری کئے گئے طلبا و والدین الرٹس کے مطابق بزنس سے متعلقہ ڈگریوں جن میں بزنس ایڈمنسٹریشن، مینجمنٹ سائنسز، پبلک ایڈمنسٹریشن اور کامرس شامل ہیں کو نیشنل بزنس ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظور ہونا لازمی ہیں۔ اس بابت طلبا کو الرٹ جاری کیا گیا ہے کہ وہ داخلہ لینے سے پہلے متعلقہ بزنس پروگرامز کو نیشنل بزنس ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل سے منظوری کی تصدیق کر لیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے جاری شدہ اعلامیہ کے مطابق پروفیشنل ڈگری پروگرامز کو کوئی بھی ادارہ متعلقہ ایکریڈیشن کونسل کی منظوری کے بغیر نہ تو شروع کر سکتا ہے اور نہ ہی جاری رکھ سکتا ہے پھر بھی کچھ یونیورسٹیاں کونسل کی منظوری کے بغیر پروگرامز میں ایڈمیشن آفر کر رہی ہیں جس سے طلبہ کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسی یونیورسٹیاں طلبا و طالبات اور ان کے والدین کے مالی وسائل کا ضیاع کر رہی ہیں ۔ایچ ای سی کے مطابق طلبا اور ان کے والدین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ متعلقہ پروفیشنل پروگرام میں ایڈمیشن سے پہلے متعلقہ کونسل سے منظوری کی تصدیق کر لیں کیونکہ ایسی یونیورسٹیوں سے غیر منظور شدہ بزنس گریجویٹس سرکاری اور پرائیویٹ ملازمتوں، بیرون ممالک سے اعلیٰ تعلیم، بیرون ممالک میں ملازمت کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں اور ان طلباء و طالبات کے مستقبل تاریک ہونے کے خدشات ہیں ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل بزنس کونسل کی طرف سےطلبا و طالبات، والدین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ہر گز ان اداروں میں ایڈمیشن نہ لیں جن کی ڈگریاں نیشنل بزنس کونسل سے منظور شدہ نہیں ہیں۔ ورنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ سٹوڈنٹس اور والدین کو نیشنل ایکریڈیشن کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹس کے مطابق طلباء کو کسی بھی غیر منظور شدہ یونیورسٹی سے حاصل کی گئی ڈگری کی تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور ان غیر منظور شدہ یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کا مستقبل تاریک ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں ۔ یاد رہے کہ ملتان کے ایل ایل بی کروانے والے گھوسٹ اداروں کی وجہ سے طلبا و طالبات کو پہلے ہی پریشانی کا سامنا ہے اور ان کے اب تک 3 سے 4 سال ضائع ہو چکے ہیں۔ چنانچہ اسی بابت تعلیمی حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ایسے اداروں کو داخلے کرنے اور اشتہار دینے سے باز کیا جائے جو منظور شدہ نہیں ہیں۔ تاکہ معصوم طلباء و طالبات کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔اس خبر پر موقف کیلئے جب ملتان
یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر محمد علی گردیزی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا ۔






