ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں میپکو اور نجی لگژری ہوٹل کے بجلی چوری سکینڈل نے اب ایک ایسی خوفناک اور شرمناک شکل اختیار کر لی ہے جس نے قومی ادارے کی ساکھ، شفافیت اور احتساب کے تمام دعوؤں کو زمین بوس کر دیا ہے۔ یہ محض بجلی چوری کا معاملہ نہیں رہا بلکہ طاقتور افسران کی ملی بھگت، ریکارڈ ٹیمپرنگ، اختیارات کے سنگین ناجائز استعمال اور قومی خزانے پر منظم ڈاکہ بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق مارچ 2024 سے لے کر 2025 تک میپکو کے اعلیٰ افسران جن میں چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی شامل ہیں، اسی نجی ہوٹل کے افتتاح اور دیگر تقریبات میں شرکت کرتے رہےمگر حیران کن طور پر کسی ایک افسر نے یہ جاننے کی زحمت گوارا نہ کی کہ جب اس نجی ہوٹل/لگژری کلب کا کنکشن قانونی طور پر منظور ہی نہیں ہوا تھا تو آخر بجلی کہاں سے اور کس کی اجازت سے چل رہی تھی؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ معاملات پہلے ہی’’مینج‘‘تھے، اسی لیے جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھی گئیں۔ بالآخر جب یہ سنگین واردات منظرِ عام پر آئی تو امجد نواز بھٹی ایس ای آپریشن ملتان نے اپنی کرسی بچانے اور شواہد مٹانے کے لیے ایک اور غیر قانونی قدم اٹھایا۔ ذرائع کے مطابق ایک B-2 کنکشن غیر قانونی طور پر کسی دوسری جگہ سے شفٹ کر کے نجی ہوٹل پر نصب کروا دیا گیا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ بجلی سپلائی کسی نہ کسی طرح ’’قانونی‘‘تھی، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ اس سے قبل سامنے آنے والے ریکارڈ کے مطابق بُچ ولاز گرڈ سٹیشن سے نکلنے والے 11KV فیڈر کے لائن لاسز فروری 2024 میں صرف 9 فیصد تھے مگر جونہی غیر قانونی کنکشن کو فعال کیا گیا یہی لائن لاسز اچانک 29 فیصد تک جا پہنچے۔ اتنے بڑے فرق کے باوجود نہ کوئی الرٹ، نہ انکوائری اور نہ ہی یونٹس ریسیوڈ اور یونٹس سولڈ میں فرق ظاہر کیا گیا۔ یہ خاموشی خود سب سے بڑا ثبوت ہے کہ معاملہ محض نااہلی نہیں بلکہ باقاعدہ منظم کرپشن تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف انجینئر کسٹمر سیلز میپکو، ڈائریکٹر کمرشل اور ایس ای آپریشن سرکل ملتان امجد نواز بھٹی اس پورے کھیل میں مبینہ طور پر شریکِ جرم رہے۔ سسٹم میں رد و بدل کر کے غیر قانونی کنکشن کے اصل سورس کو دانستہ طور پر دھندلا دیا گیا تاکہ بُچ ولاز گرڈ سٹیشن سے فراہم کی جانے والی بجلی کا سراغ مٹایا جا سکے۔ اس عمل سے نہ صرف تکنیکی شفافیت دفن ہوئی بلکہ قومی ادارے کو کروڑوں روپے کے نقصان کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ یہاں سوال اب یہ نہیں کہ بدعنوانی ہوئی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس منظم واردات کے کردار کب قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے؟ اور کیا طاقتور افسران ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بچ نکلیں گے؟ یاد رہے کہ مارچ 2024 میں ایس ای آپریشن سرکل ملتان امجد نواز بھٹی نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی 11KV پینل نصب اور انرجائز کروایا۔ اس پینل کو نہ کوئی کوڈ دیا گیا اور نہ ہی ریفرنس نمبر الاٹ ہوا۔ پینل کی کبھی باقاعدہ بلنگ نہیں کی گئی۔ کرکٹ میچز کے دوران نجی کلب مکمل طور پر پی سی بی نے بک رکھا۔ میچز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی مکمل طور پر چوری شدہ تھی۔ تقریباً 31 لاکھ یونٹس (مالیت لگ بھگ 14 کروڑ روپے) عوام کے بلوں میں ایڈجسٹ کیے گئے۔ پرانا 11KV پینل شواہد مٹانے کے لیے کاغذوں میں’’چوری شدہ‘‘ظاہر کیا گیاجو تکنیکی طور پر انتہائی مشکوک ہے۔ فیڈر انسٹال کیے بغیر میٹریل نکلوا لیا گیا، حالانکہ ڈیمانڈ نوٹس جمع ہو چکا تھا۔ ہوٹل کے لیے کوئی علیحدہ فیڈر نصب نہیں کیا گیا۔ تمام بجلی بُچ ولاز گرڈ سٹیشن سے فراہم کی جاتی رہی جو B-3 کنکشن قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ سابق جی ایم ٹیکنیکل و موجودہ سی ای او آئیسکو انجینئر خالد محمود اور سی ای او میپکو جام گل محمد نے اس عمل کو تحفظ دیا یا دانستہ نظر انداز کیا۔ جب اس معاملے پر آئیسکو چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر خالد محمود، میپکو چیف ایگزیکٹو آفیسر جام گل محمد، ایس ای آپریشن امجد نواز بھٹی اور جواد منصور سے مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو کوئی بھی جواب دینے سے قاصر رہا۔ یہ خاموشی خود ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جو پورے نظام پر بھاری پڑتا ہے۔







