ملتان(نیوز رپورٹر ) قدرتی گیس اور آر ایل این جی کی وافر دستیابی کے باوجود گزشتہ تین دہائیوں سے ملتان میں گیس پریشر میں کمی اور لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ برقرار ہےجس کی بنیادی اور واحد وجہ بوسیدہ گیس پائپ لائنیں ہیں جنہیں آج تک مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا گیا۔ اس دوران ایس این جی پی ایل کے افسران تو تبدیل ہوتے رہے مگر کسی نے بھی مین لائنوں کی اپ گریڈیشن پر توجہ نہیں دی، نتیجتاً شہری آج بھی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ملتان میں گیس فراہمی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، شیڈول لوڈ شیڈنگ کے باوجود پریشر میں کمی نے گھریلو اور تجارتی صارفین کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ حالانکہ شہر میں آر ایل این جی اور قدرتی گیس دونوں کی وافر مقدار دستیاب ہیں لیکن گیس صارفین تک مطلوبہ پریشر میں نہیں پہنچ پا رہی۔اصل مسئلہ 30 سے 40 سال پرانی، زنگ آلود، زیرِ زمین پانی سے متاثر اور کمزور ہوچکی لائنیں ہیں جو جگہ جگہ لیکج کا شکار ہیں۔ پائپ لائنوں کے جوڑ ٹوٹنے کے باعث گیس ضائع ہوتی ہے اور سسٹم کا پریشر برقرار نہیں رہتا۔ انجینئرنگ ماہرین کہتے ہیں کہ بوسیدہ نیٹ ورک میں پریشر بڑھانے کی کوشش خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اسی لیے انتظامیہ کو مجبوری کے تحت لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ رہی ہے۔شہر کے متعدد رہائشی علاقوں میں انفراسٹرکچر عشروں سے تبدیل نہیں ہوا۔ نہ مکمل مرمت ہوئی اور نہ اپ گریڈیشن کا کوئی جامع منصوبہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سسٹم اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ گیس موجود ہونے کے باوجود صارفین تک پوری مقدار میں نہیں پہنچ رہی۔ شہری صبح اور شام چولہے جلانے کے لیے پریشر کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔عوامی اور کاروباری حلقوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جب ملک کے پاس گیس موجود ہے تو پھر لوڈ شیڈنگ کی اصل ذمہ داری صرف اور صرف خراب انفراسٹرکچر پر ہے۔ شہریوں نے فوری طور پر بوسیدہ لائنوں کی مکمل تبدیلی، لیکج پوائنٹس کی مرمت اور جدید گیس نیٹ ورک بچھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک ملتان میں بنیادی لائنوں کی اپ گریڈیشن نہیں کی جاتی، گیس بحران مصنوعی طور پر برقرار رہے گا اور شہری مسائل سے دوچار رہیں گے۔ترجمان ایس این جی پی ایل نے کہا ہے کہ موجودہ جنرل منیجر کی محنت اور ٹیم کی سپورٹ کے بدولت پچھلے ڈیڑھ سال کے عرصہ میں نیٹ ورک کی تبدیلی پر بھرپور توجہ دی گئی ہے جس کی نتیجہ میں شہر کے کافی علاقوں کی لائینوں کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ اور بہت سے علاقوں میں گیس پریشر بہتر ہوگئے ہیں۔ مگر سب ایریاز اور ملتان کے کافی علاقے ابھی بھی اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اس لئے راؤنڈ دی کلاک گیس کی سپلائی پورے ملتان میں ممکن نہیں ہے۔







