ملتان (کرائم سیل) جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان میں قانون پر عمل درآمد اور تھانوں میں فیصلے میرٹ کے بجائے بولی کی بنیاد پر ہونے لگ گئے اور جو زیادہ بولی دے انصاف کا پلڑا اسی طرف جھک جاتا ہے۔ تھانہ نیو ملتان کے علاقے میں ایک شخص کا تین مرلے اراضی کا سودا 55 لاکھ روپے کے عوض شبیر اقبال نامی شٹرنگ کا کاروبار کرنے والے کے ساتھ ہوا اور معاہدے کے مطابق شبیر اقبال نے مختلف قسطوں میں 55 لاکھ روپیہ پورا کرکے ڈھائی مرلے کا قبضہ حاصل کر لیا اور تین مرلہ پلاٹ کے اسٹامپ پیپر لکھوا لیے جبکہ ثبوت کے طور پر ان کی ویڈیو بھی بنوا لی۔ مشترکہ کھاتے کی وجہ سے پلاٹ کی ٹرانسفر میں رکاوٹ آئی تو اس دوران فروخت کنندہ احمد حسن کا انتقال ہو گیا تو اس کی بیوہ کوثر پروین نے مزید 20 لاکھ روپے کا مطالبہ کر دیا جو مجبوری کے عالم میں شبیر اقبال نے دو قسطوں میں ادا کر دیا اور اس کا بھی ریکارڈ مرتب کر لیا۔ اس دوران احمد حسن کی بیوہ کوثر پروین مقامی قبضہ مافیا کے ہتھے چڑھ گئی اور کسی پرانے ریکارڈ کی روشنی میں عدالت سے رجوع کرکے معاملہ لٹکا لیا کہ اس سے قبل کوثر پروین نے سی پی او ملتان کو درخواست دی تھی کہ اس نے اپنا پلاٹ شبیر اقبال کو فروخت کر دیا ہے مگر قبضہ مافیا رکاوٹ ڈال رہا ہے جس پر سی پی او نے مذکورہ درخواست ڈی ایس پی کو مارک کر دی جو عباد گیلانی ایس ایچ او تھانہ نیو ملتان کے پاس پہنچ گئی جنہوں نے دونوں پارٹیوں کو پنچایت میں فیصلہ کرنے کے لیے کہا اور سابق پہلوان پپو بھارا کو ثالث مقرر کر دیا۔ علاقہ کے پولیس ٹاؤٹ نے شبیر اقبال سے رابطہ کرکے اسے کہا کہ وہ پانچ لاکھ روپے کا انتظام کر دے تو پولیس اس کا فیصلہ تمہارے حق میں کر دے گی، ابھی شبیر اقبال پیسوں کا انتظام کر ہی رہا تھا کہ اسی دوران عباد گیلانی کے حکم پر نیو ملتان پولیس نے دکان پر دھاوا بول کر تالے لگوا دیئے اور موقع پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کو توڑ دیا۔ شبیر اقبال کو مذکورہ پولیس ٹاؤٹ نے بتایا کہ تم نے ڈیل پوری کرنے میں دیر کر دی تو دوسری پارٹی نے پانچ لاکھ کے بجائے 10 لاکھ روپیہ ٹیبل پر لا کر رکھ دیا ہے اس لیے تمہارا معاملہ اب ختم ہو گیا۔ اسی دوران نیو ملتان پولیس نے تھانہ نیو ملتان میں قبضہ مافیا کی مزید سہولت کاری کرتے ہوئے شبیر اقبال کے خلاف تین اپریل 2026 کو زیر دفعہ 420، 463 اور 471 کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا۔ شبیر اقبال نے بتایا کہ انہوں نے 15 پر متعدد کالیں کی مگر پولیس کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں دیا گیا۔ شبیر اقبال اور اس کی والدہ نےروزنامہ قوم کے دفتر میں آ کر بتایا کہ انہیں چوہدری فیصل نامی قبضہ مافیا کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور اس قبضہ مافیا کے خلاف چار سال قبل تھانہ نیو ملتان ہی میں مقدمہ نمبر 22/470 بھی درج ہے۔ شبیر اقبال اور اس کی والدہ نے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی بھی اور فورم سے انصاف کی توقع نہیں۔







