ملتان(سٹاف رپورٹر)جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان کو اپنے وقت کے سب سے بڑے طبی منصوبے نشتر میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے سنگ بنیاد کی 1953 کی ایک نایاب تصویر جس میں مخدوم سید علمدار حسین گیلانی ڈائس پر کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور عقب میں مخدوم سید شوکت حسین گیلانی موجود ہیں آج بھی ریکارڈمیں موجودہےجوگیلانی خاندان کی نشترہسپتال کے قیام کی جدوجہدکاثبوت ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ مخدوم سید علمدار حسین گیلانی نےسابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ رکھا تھا کہ اگر ملتان کو میڈیکل کالج اور ہسپتال کا منصوبہ نہیں ملتا تو وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں گے۔ مخدوم سید علمدار حسین گیلانی ان چند ٹین ایجرز میں شامل تھے جن کے قرارداد پاکستان پر دستخط موجود ہیں اور جن کا نام آج بھی مزار پاکستان پر نصب سنگ مرمر کے تختوں پر کنداں ہے۔ وہ بہت چھوٹی عمر میںمتحدہ پاکستان کے وزیر رہے اور انہیں یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ پاکستان سے جو وفد مائوزے تنگ سے ملنے گیا ان میں شیخ مجیب الرحمان کے ہمراہ مخدوم سید علمدار حسین گیلانی بھی تھے اور پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ ان دونوں کی اولادیں پاکستان کے ان دونوں حصوں میں وزارت عظمی پر فائز تھیں۔بنگلہ دیش میں حسینہ واجد جبکہ پاکستان میں سید یوسف رضاگیلانی ایک ہی وقت میں وزیراعظم تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایبڈو کے ذریعے سیاست دانوں کو نااہل کرنے سے پہلے ایوب خان نے بعض سیاست دانوں سے رابطہ کر کے اپنے حق میں دستبردار کروانے کی کوشش کی تھی۔ ان میں سید علمدار حسین گیلانی بھی شامل تھے پھر ان کی طرف سے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ میں تو ان لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے پاکستان کے پہلے آئین پر دستخط کیے اور پھر میری ہی تحریک پر پاکستان کے پہلے آئین پردستخط کرنے والے عام ممبران نے ننگے پاؤں مزار قائد پر حاضری دے کر دعا کی تھی ۔میں آئین شکنی کے مرتکب کسی بھی شخص کی ہم رکا بی کیسے کر سکتا ہوں اور پھر ان کا نام بھی محض 39 سال کی عمر میں ایبڈو میں شامل کر دیا گیا اور انہیں سیاست سے باہر کر دیا گیا۔نشتر میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کو نجی شعبے کے حوالے کیے جانے کے فیصلے پر گیلانی خاندان کا اصولی موقف اختیار کرنا نہ صرف وقت کا تقاضہ ہے بلکہ اپنے آبائواجداد کی وراثت کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہے۔
نشتر 90 ارب کا قومی اثاثہ، نجکاری کیخلاف علی حیدر گیلانی کی پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا

ملتان(سٹاف رپورٹر)رکن صوبائی اسمبلی پی پی 213ملتان سیدعلی حیدرگیلانی نے پنجاب اسمبلی میں نشترہسپتال کی ممکنہ نجکاری کیخلاف تحریک التواجمع کرادی۔تحریک التوامیں کہاگیاہےکہ یہ ایوان اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد قائم ہونے والا ملک کا پہلا میڈیکل کالج، نشتر میڈیکل کالج ملتان جو نہ صرف تاریخی اہمیت کا حامل ہے بلکہ قومی تعلیمی، طبی اور عوامی ورثہ بھی ہے، اسے مبینہ طور پر موجودہ حکومت کی جانب سے پرائیویٹائز کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان شہر کے وسط میں تقریباً 125 ایکڑ پر محیط ایک وسیع و عریض تعلیمی ادارہ ہے، جس کی موجودہ دور میں ازسرِنو تعمیر یا متبادل ادارے کے قیام پر ماہرین کے اندازے کے مطابق 80 سے 90 ارب روپے سے کم لاگت ممکن نہیں۔ ایسے میں اس قومی اثاثے کو نجکاری کی طرف دھکیلنا نہ صرف عوامی مفاد کے منافی ہے بلکہ قومی وسائل کے ساتھ ناانصافی کے مترادف بھی ہے۔یہ ادارہ اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے پاکستان کے ممتاز سیاسی و سماجی رہنما مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کے والدِ محترم مخدوم علمدار حسین گیلانی نے اپنی ذاتی دلچسپی، وژن اور کاوشوں سے قائم کروایا جس کا مقصد جنوبی پنجاب کے پسماندہ عوام کو معیاری طبی تعلیم اور علاج کی سہولیات فراہم کرنا تھا۔یہ ایوان سمجھتا ہے کہ نشتر میڈیکل کالج جیسے تاریخی، عوامی اور قومی اداروں کی نجکاری سے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے طبی تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے، علاج معالجہ مہنگا ہو گا اور ریاست کی فلاحی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات جنم لیں گے۔








