ملتان کارپوریشن: 64 غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز سے منتھلی ثابت، انسپکٹر منیر معطل نہ کارروائی

ملتان (سٹاف رپورٹر) میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہےجہاں ایک سرکاری انکوائری رپورٹ میں بدنامِ زمانہ انسپکٹر محمد منیر احمد کے خلاف سنگین نوعیت کے شواہد سامنے آئے ہیںمگر حیران کن طور پر تاحال نہ کوئی معطلی ہوئی اور نہ ہی کوئی عملی کارروائی ہوسکی۔ انکوائری رپورٹ میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ ریگولیشن برانچ کے سربراہ راؤ رفیع پر الزام ہے کہ وہ 64 غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز سے ماہانہ رشوت وصول کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ رشوت انسپکٹر محمد منیر احمد کے ذریعے اکٹھی کی جاتی رہی اور بعد ازاں اعلیٰ افسران تک پہنچائی جاتی رہی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انسپکٹر منیر احمد اس سے قبل بھی مختلف شادی ہالوں، میڈیکل سٹورز اور ریڑھی بانوں سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے ماہانہ منتھلی اکٹھی کرنے میں مصروف رہا جس کے شواہد اور شکایات مختلف فورمز پر پہلے ہی سامنے آ چکے ہیںمگر ہر بار معاملہ دبا دیا گیا۔چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان اقبال خان پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف انسپکٹر منیر احمد کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں رہےبلکہ مبینہ طور پر جان بوجھ کر اسے مزید اہم اور منافع بخش ذمہ داریاں سونپتے رہے۔ ذرائع کے مطابق اگر چیف آفیسر واقعی دیانت دار ہوتے تو انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد فوری کارروائی کرتے۔ خاموشی اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ سب کچھ اعلیٰ سطح سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ شہریوں اور تاجر حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کب تک میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان چند مخصوص افسران کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی اور کب وزیراعلیٰ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس مبینہ کرپشن کےنیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھائیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں