ملتان (سٹاف رپورٹر) حالیہ سیلاب نے ملتان ڈویژن میں جو تباہی مچائی ہے، کھربوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے اور درجنوں انسانی جانوں کا خراج لیا ہے اس کی واحد وجہ ہیڈ پنجند کی ڈاؤن سٹریم میں جو کنکریٹ کی دیوار جسے تکنیکی زبان میں سب ویئر کیا جاتا ہے کی تعمیر کو قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سب ویئر کی تعمیر اور ہیڈ پنجند کی ری ماڈلنگ کے بعد سیلابی پانی کے گزرنے میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی اور پانی کی سطح جہاں 6 فٹ بلند ہوئی وہاں اس سب ویئر کی وجہ سے سیلابی پانی ٹھہرا رہا اور اسی سیلابی پانی کے کئی دن تک ٹھہرنے کی وجہ سے درجنوں دیہات 6،6 فٹ مٹی تلے دب گئے۔ اس تمام صورتحال کا سب سے توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ جونہی آہستہ آہستہ اس سیلابی ریلے نے ہیڈ پنجند کو کراس کیا تو ہیڈ پنجند سے لے کر گڈو بیراج اور کوٹری بیراج تک سیلابی پانی کی وہ تباہ کاریاں نظر نہیں آئیں جس قسم کی ہیڈ پنجند کی اپ سٹریم میں علی پور، جلال پور اور اوچ شریف کے نواحی علاقہ جات میں پائی گئی حتیٰ کہ سی پیک کو بھی یہ سیلابی ریلا برباد کر گیا۔ آج سے 20 سال قبل بیراجز کے ہیڈ پی ایم او نے نندی پور ضلع گوجرانوالہ میں واقع ایریگیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ملی بھگت سے ایک ماڈل سٹڈی کروائی جس میں پنجاب کے تمام ہیڈ ورکس کی تعمیر کے دہائیوں بعد ایک بہانہ تلاش کیا گیا کہ ہیڈ ورکس کو مضبوط کرنے کے لیے ڈاؤن سٹریم میں سب ویئر بنائی جائیں۔ اس فیصلے کے تحت اربوں روپے کی لوٹ مار کی گئی اور پہلی سب ویئر جناح بیراج پر بنائی گئی جبکہ پھر انہی جعلی رپورٹس کی بنیاد پر تونسہ اور خانکی ہیڈ ورکس پر یہی کہانی دہرائی گئی اور آخر میں ہیڈ پنجند کی ڈاؤن سٹریم میں سب ویئر بنا کر محکمہ انہار کے انگریزوں کے دور کے بنائے گئے سسٹم جسے دنیا کا بہترین سسٹم کہا جاتا تھا کو برباد کر دیا گیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جناح بیراج پر مجوزہ سب ویئر/دیوار کی تعمیر کے منصوبے پر اعلیٰ حکام اور ماہرین نے سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ڈیزائن، ماڈل سٹڈیز اور متعلقہ رپورٹس کو غیر تسلی بخش اور بعض صورتوں میں جعلی قرار دے دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایک اعلیٰ سطحی سرکاری خط میں واضح کیا گیا تھا کہ سب ویئر کی تعمیر کے جواز میں دی گئی رپورٹ نہ صرف سربراہ PMO کے دستخطوں سے محروم ہے بلکہ اس میں پشت کے کٹاؤ (retrogression) سے متعلق کوئی ثبوت یا ڈیٹا بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ متعلقہ حکام سے تین روز کے اندر وضاحت طلب کر لی گئی تھی ۔ مزید اس خط میں نشاندہی کی گئی تھی کہ 2010 کے شدید سیلاب کے دوران بھی جناح بیراج کے ٹیل واٹر لیولز معمول کے مطابق رہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سب ویئر کی ضرورت نہیں تھی۔ فزیکل ماڈل سٹڈی رپورٹ کو ڈیزائن کنسلٹنٹس نے 2009 میں مسترد کر دیا تھا۔ ماڈل سٹڈیز میں یہ بھی دیکھا گیا کہ سب ویئر سے پتھروں کی تہہ (stone apron) کا بہاؤ متحرک ہواجو کہ تونسہ بیراج میں پہلے ہی مسائل پیدا کر رہا تھا۔ تفصیلی ڈیزائن رپورٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ زیادہ اخراج کے دوران بجری جیسا مواد بیراج اور سب ویئر کے درمیان جمع ہو سکتا ہےجس سے بہاؤ متاثر ہو گا۔ ماہرین کے مطابق بیراج کی موجودہ حالت تسلی بخش تھی اور پانی کی فراہمی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا، جیسا کہ بعض حکام دعویٰ کر رہے تھے۔ سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ متبادل III (سب ویئر) کو ڈیزائن رپورٹس میں ڈاکٹر ذوالفقار علی کے نام سے منسوب کیا گیا، حالانکہ نہ تو اُن کی اجازت حاصل کی گئی بلکہ وہ اُس وقت کنسلٹنٹس کے ملازم بھی نہیں تھے۔ ماہرین نے مارچ اور مئی 2009 کی ان رپورٹس کو جعلی قرار دے دیا اور کہا کہ ان کی بنیاد پر تیار کی گئی پراجیکٹ مین رپورٹ بابت اگست 2009 قابلِ اعتبار نہیں۔ مزید برآں، اس وقت بھی یہ واضح نہیں کہ سب ویئر کے ساتھ جناح بیراج کی مکمل ہائیڈرالک کارکردگی کی ذمہ داری کون لے گا، جبکہ مشاورتی معاہدے کے مطابق یہ ذمہ داری کنسلٹنٹس پر عائد ہوتی ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ داری کا واضح تعین کیا جائے۔







