تازہ ترین

ملتان: پی سی بی میچز میں بھی چوری کی بجلی استعمال، میپکو نیوٹرل، نجی کلب کا چھکا، بل زیرو

ملتان (سٹاف رپورٹر) میپکو اور نجی لگژری کلب کے بجلی سکینڈل کے پس منظر میں ایک واضح، منظم اور طے شدہ ایجنڈا کارفرما رہا جس کا مقصد ملتان میں ہونے والے کرکٹ میچز کے دوران نجی کلب کو غیر قانونی فائدہ پہنچانا تھا۔ انکشاف ہوا ہے کہ مارچ 2024 میں ایس ای آپریشن سرکل ملتان امجد نواز بھٹی نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر 11KV پینل نصب کروایا اور اسے انرجائز کر دیا حالانکہ نہ اس پینل کو کوئی کوڈ یا ریفرنس نمبر الاٹ کیا گیا اور نہ ہی اس کی باقاعدہ بلنگ کی گئی۔ چار مارچ 2024 کو ہوٹل کے افتتاح کے فوراً بعد ملتان میں منعقد ہونے والے مختلف قومی و بین الاقوامی کرکٹ میچز کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پورا ہوٹل کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے بک رکھا جس کے نتیجے میں ہوٹل میں بجلی کا استعمال کئی گنا بڑھ گیا مگر ذرائع کے مطابق ان تمام میچز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی مکمل طور پر چوری شدہ تھی اور دانستہ طور پر اس کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا گیا۔ یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھاجس میں ایس ای آپریشن سرکل ملتان امجد نواز بھٹی نے مرکزی کردار ادا کیا جبکہ سابقہ جی ایم ٹیکنیکل اور موجودہ چیف ایگزیکٹو افسر آئیسکو انجینئر خالد محمود اور موجودہ چیف ایگزیکٹو افسر میپکو جام گل محمد نے بطور اعلیٰ انتظامی سربراہان اس پورے غیر قانونی عمل کو یا تو تحفظ فراہم کیا یا دانستہ طور پر نظر انداز کیے رکھا۔ ذرائع کے مطابق بعد ازاں شواہد مٹانے کے لیے پرانے 11KV پینل کو’’غائب‘‘کروا کر کاغذوں میں چوری شدہ ظاہر کیا گیا حالانکہ ٹیکنیکل ماہرین کے مطابق اتنے بھاری پینل کی چوری کا دعویٰ خود ہی اس کہانی کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت تقریباً 31 لاکھ یونٹ بجلی جن کی مالیت لگ بھگ 14 کروڑ روپے بنتی ہے عوام الناس کے بلوں میں ایڈجسٹ کر دیے گئے تاکہ اصل فائدہ اٹھانے والے نجی ہوٹل کو کسی قسم کی مالی ذمہ داری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حیران کن طور پر فیڈر انسٹال نہ ہونے کے باوجود میٹریل نکلوا کر سائیڈ لائن کر دیا گیا حالانکہ اس فیڈر کا ڈیمانڈ نوٹس پہلے ہی جمع کروایا جا چکا تھا۔ اس اقدام کا مقصد بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ کاغذی کارروائی مکمل ظاہر کی جائے جبکہ عملی طور پر غیر قانونی سپلائی جاری رکھی جا سکے۔ یاد رہے کہ اس تمام عرصے میں ہوٹل کے لیے کوئی علیحدہ فیڈر نصب نہیں کیا گیا اور تمام تر بجلی بچ ولاز گرڈ سٹیشن سے فراہم کی جاتی رہی جو کہ بی تھری (B-3) کنکشن کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی نکات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہ معاملہ صرف بجلی چوری تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر کی گئی ایک منظم کارروائی ہے جس کی ذمہ داری براہِ راست ایس ای آپریشن ملتان سرکل امجد نواز بھٹی، چیف ایگزیکٹو آفیسر آئیسکو انجینئر خالد محمود اور چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو جام گل محمد پر عائد ہوتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں