ملتان (کرائم سیل) مدینۃ الاولیا میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران جب پرائیویٹ گاڑیوں، پرائیویٹ لفٹروں کے ذریعے اٹھانے اور ویلفیئر کے نام پر بھاری رقوم روزانہ کی بنیاد پر اکٹھی کرنے پر اپنی پوری توجہ مرکوز رکھیں گے تو ڈکیتوں کی مکمل توجہ شہریوں کو لوٹنے پر ہوگی۔ شہرمیں سرگرم ڈاکو اتنے دلیر اور پولیس اتنی کمزور ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود انہیں پکڑ نہیں سکتی اور رہا ڈکیتی کے مقدمات ریکوری کا معاملہ تو یہ گزشتہ کئی سال سے طے شدہ ہے کہ یہ ریکوری 90 فیصد پولیس ہی کی ہوتی ہے۔ پولیس کی مکمل طور پر نااہلی اور ناکامی کے بعد اب شہری اپنی مدد آپ کے تحت اپنا بچاؤ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ملتان کے ایک تاجر آصف گلزار نے بھی بہادری کی نئی داستان رقم کی مگر اس میں انہیں گولی کا نشانہ بننا پڑا ۔یہ گیارہ اور بارہ اپریل کی درمیانی رات کا وقوعہ ہے آصف گلزار جو کینٹ کے تاجر رہنما بھی ہیں، ڈی ایچ اے ملتان سے شادی کی ایک تقریب کے بعد اپنی فیملی کے ہمراہ واپس اپنے گھر پی سی کالونی جا رہے تھے اور ان کی گاڑی کے پیچھے ان کے دو بھائیوں کی گاڑیاں بھی کچھ فاصلے سے آ رہی تھیں۔ ان کی گاڑی مسلم سکول سے آگے کلمہ چوک پر پہنچی تو انہیں موٹر سائیکل پر بیٹھے تین لڑکوں نے کراس کیا اور موٹر سائیکل سامنے لا کر رکنے کو کہا۔ آصف گلزار نے جونہی گاڑی روکی تو دو ڈاکو ریوالور تان کے ڈرائیونگ سیٹ کی طرف آئے اور آصف گلزار کو پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کیلئے کہا جہاں ان کی بیٹیاں بیٹھی تھیں جبکہ ان کی اہلیہ فرنٹ سیٹ پر تھیں ۔ایک ڈاکو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور دوسرے نے آصف کے ساتھ پیچھے بیٹھنے کی کوشش کی مگر جگہ نہ ہونے کی وجہ سے گاڑی کا دروازہ بند نہ ہوا کہ اتنے میں پیچھے سے ان کے بھائی عارف گلزار آ گئے انہوں نے جب دیکھا کہ کوئی نوجوان گاڑی میں بیٹھنے کی کوشش کر رہا ہے تو اپنی گاڑی اس کھلے دروازے میں مار دی تو دونوں ڈاکو گھبراکر بھاگنے لگے تو جو لڑکا پیچھے بیٹھ رہا تھا وہ جونہی باہر نکلا آصف گلزار نے ہمت کرکے اس کے منہ پر زوردار مکا مارا وہ لڑکھڑا کر گرنے لگا تو ذاکو نے فائر کر دیا جو آصف گلزار کی ٹانگ پر لگا تو ڈاکو فرار ہو گئے۔ کلمہ چوک پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں جن میں تمام ڈاکوئوں کی شکلیں پہچانی جا رہی ہیں۔ پولیس تھانہ چہلیک میں مقدمہ درج ہے مگر پولیس ابھی تک ڈاکوئوں تک نہیں پہنچ سکی۔ مدعی مقدمہ کے بھائیوں نے جس بھی پولیس افسر سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تھا ہر باوردی کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ رات کے اڑھائی بجے آپ گھروں سے باہر ہی کیوں نکلے اور افسران کی تفتیش مکمل ہو جاتی ہے۔
