ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال ملتان میں ادویات کی کمی پی ایم اے کے صدر کی تنقید جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال نشتر ہسپتال میں ادویات اور طبی سہولیات کی کمی کے مسائل ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) ملتان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج نے ایک وفد کی سربراہی میں نشتر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راؤ امجد سے ملاقات کی اور ادویات کی شدید کمی اور دیگر طبی مسائل پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا تدریسی ہسپتال ہے، جہاں ہزاروں مریض روزانہ علاج کے لیے آتے ہیں، لیکن ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پی ایم اے کے وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نشتر ہسپتال کے لیے فوری طور پر اضافی فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج دستیاب ہو سکے۔ ڈاکٹر مسعود ہراج نے کہا کہ یہ مسائل نئے نہیں بلکہ برسوں سے جاری ہیں، اور ان کی وجہ سے غریب اور مستحق مریض متاثر ہو رہے ہیں۔یاد رہے کہ ماضی میں بھی نشتر ہسپتال میں ادویات کی کمی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر کورونا وبا اور دیگر وباؤں کے دوران۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ہسپتال کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ پنجاب حکومت کے وژن کے تحت مریضوں کو 100 فیصد مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، لیکن پی ایم اے کی جانب سے اس دعوے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں پی ایم اے کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مریضوں کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔یہ معاملہ جنوبی پنجاب کے صحت کے نظام کی مجموعی صورتحال کو بھی اجاگر کر رہا ہے، جہاں سرکاری ہسپتالوں میں ادویات اور سہولیات کی کمی ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔







