ملتان: ناقص ہیلمٹ کمائی کا ذریعہ، زندگیاں نگلنے لگے، شہری چالان سے محفوظ، جان غیر محفوظ

ملتان (وقائع نگار) ناقص میٹریل سے تیار چالان بچانے والے ہیلمٹ زندگیاں نگلنے لگے۔ ملتان میں 11 ماہ کے دوران جان کی بازی ہارنے والے موٹر سائیکل سواروں کی بڑی تعداد ہیلمٹ پہننے کے باوجود موت کی وادی میں اتر گئی۔ مائیں اس فرسودہ نظام اور ناقص ہیلمٹ تیار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف بین کرنے لگیں۔ ہیلمٹ کا خول معمولی ٹکر سے ٹوٹ جاتا ہے جبکہ ناقص ترین پلاسٹک کا شیشہ ذرا سی دھند میں نظری رکاوٹ اور حادثات کا باعث بننے لگا ۔ان غیر معیاری ہیلمٹوں کی فروخت فوری طور پر روکنے کے امکانات نہیں کیونکہ کئی سو گنا زائد منافع کمانے کے لالچ میں بڑے دکانداروں نے نا قابل بیان حد تک بڑی تعداد میں ناقص ہیلمٹ منگوا کر اپنے سٹور بھر لیے ہیں ۔ملتان سمیت پاکستان بھر میں سڑکوں پر موٹر سائیکل سواروں کی ہلاکتیں ایک المیہ بن چکی ہیں، ملتان میں گزشتہ 11 ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں 560 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں سے 380 موٹر سائیکل سوار تھے۔ حیران کن طور پر ان ہلاک شدگان میں سے 85 فیصد نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا مگر یہ ہیلمٹس حفاظت کے بجائے صرف چالان سے بچاؤ کا ذریعہ ثابت ہوئے۔ شہر کے نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں زخمی اور ہلاک شدگان کے لواحقین کی چیخیں اور آنسو اس نظام کی ناکامی کی گواہی دیتے ہیں۔یہ صورتحال صرف حادثات کی تعداد تک محدود نہیںبلکہ اس کے پیچھے ایک پورا منافع خور مافیا اور لاپرواسرکاری نظام چھپا ہوا ہے۔ پاکستان میں ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیئے جانے کے بعد مارکیٹ میں سستے اور غیر معیاری ہیلمٹس کی بھرمار ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک معیاری ہیلمٹ میں حفاظتی فوم لائننگ، مضبوط شیل میٹریل اور ٹیسٹ شدہ پٹیاں شامل ہوتی ہیں جو بین الاقوامی معیاروں جیسے ECE یا DOT پر پورا اترتی ہیں۔ مگر ملتان سمیت پورے ملک میں دستیاب 90 فیصد ہیلمٹس ایسے ہیں جو نہ تو ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور نہ ہی حفاظتی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ایک حادثے کے عینی شاہد علی حسن نے بتایا، “ہیلمٹ تو پہنا ہوا تھامگر ٹکر لگتے ہی اس کی پٹی ٹوٹ گئی اور ہیلمٹ سڑک پر دور جا گرا۔ سر زمین سے ٹکراگیا۔ یہ ہیلمٹ کیا حفاظت کرتا یہ تو دیکھنے میں کھلونا لگتا تھا۔ 22 سالہ سمیع کی ماں نے روتے ہوئے کہاوہ گھر سے نکلا تو ہیلمٹ پہنا تھا۔ میں نے دعا دے کر رخصت کیا۔ ایک گھنٹے بعد فون آیا کہ وہ حادثے میں چل بسا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ہیلمٹ ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ گیا تھا۔ کیا فائدہ ایسے ہیلمٹ کا،حادثات میں اضافے کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں۔ مارکیٹ میں دستیاب ہیلمٹس کے ویزر (شیشے) کمزور پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں جو روشنی کو بکھیر دیتے ہیں اور رات کے وقت مخالف گاڑیوں کی لائٹس کو چمک میں بدل دیتے ہیں جس سے ڈرائیور کی نظر محدود ہو جاتی ہے۔ٹیسٹ شدہ پٹیاں گلے پر باندھے کے دیتے اور ان کے پلاسٹک کے کلپس بھی انتہائی ناقص ہیں جس سے جوڑ ہلکے جھٹکے پر ہی ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ ان میں اندرونی فوم اور شیل بھی غیر معیاری ہوتے ہیں جو حادثے کی شدت کو جذب نہیں کر پاتے۔ شاہ رکن عالم مارکیٹ کے ایک دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تسلیم کیا کہ “زیادہ تر ہیلمٹس لاہور اور کراچی کی چھوٹی فیکٹریوں سے آتے ہیں۔ یہ موٹے پلاسٹک کے سانچے ہیں۔ کسٹمر کو چالان سے بچنا ہے، وہ جان بچانے والا ہیلمٹ نہیں ڈھونڈتا۔”حکومت کی جانب سے ہیلمٹ لازمی قرار دینے کے بعد دکانداروں نے ہیلمٹس ذخیرہ کر لیے اور قیمتیں تین گنا بڑھا دیں۔ 1200 روپے والا ہیلمٹ 3000 روپے اور 1500 روپے والا 4500 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ ٹریفک پولیس کا فوکس صرف ہیلمٹ کی موجودگی پر ہے نہ کہ اس کے معیار پر۔ سرکاری نمائندے کہتے ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں، ٹریفک پولیس صرف ہیلمٹ دیکھتی ہے، اس کا معیار نہیں۔ پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کوئی مارکیٹ سے سیمپلنگ نہیں کرتا، نہ ہی فیکٹریوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت شہریوں کی جانوں کی حفاظت چاہتی ہے تو فوری طور پر ہیلمٹس کے لیے قومی معیار کو لازمی قرار دیا جائے اور PSQCA کے اسٹینڈرڈ کو نافذ کیا جائے۔ مارکیٹ سے ہیلمٹس کی سیمپلنگ اور ٹیسٹنگ کی جائے، غیر معیاری مصنوعات ضبط کی جائیں۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر کارروائی ہو۔ ٹریفک پولیس معیاری ہیلمٹس پر سختی کرے اور ان کی ‘فٹنس چیک کرے۔ملتان کے حادثات کا ڈیٹا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ہیلمٹ موجود ہے مگر حفاظت نہیں۔ یہ صرف ملتان کی کہانی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ہے جہاں چالان بچانے کے لیے ناقص ہیلمٹ پہن لیے جاتے ہیں مگر زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ کسی ایک ہیلمٹ پر بھی سٹینڈرڈ کے سٹکر نہیں لگے ہوتے حکومت اگر ہیلمٹوں کا معیار بین الاقوامی بنانے کی طرف توجہ نہیں دیتی تو اسی طرح موت سڑکوں پر کھیلتی رہے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں