ملتان میں 196 غیر قانونی کالونیاں کھربوں کا فراد ،ایم ڈی اے لینڈ ما فیا کا سہولت کار

ملتان(سپیشل رپورٹر)لینڈ مافیا کا ملتان میں سب سے بڑا سہولت کار ادارہ ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی غیر قانونی سو سائٹی بنانے والوں کیخلاف کارروائی کرنے کے بجائے سوشل میڈیا اور ویب سائٹ تک ہوائی کارروائی کرانے والا ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ کئی سربراہ بدلے، افسران بدلے مگر ایم ڈی اے کے دفاتر سے ٹائوٹ نہ ہٹائے جا سکے بلکہ ان کی تعیناتیاں نہ صرف مستقل بنیادوں پر ہوتی ہیں بلکہ ہر ٹرانسفر ہونے والا آفیسر اپنے ٹائوٹ کا چارج آنے والوں کو یہ کہہ کر سپرد کر کے چلا جاتا ہے کہ آپ اس پر ہر طرح اعتماد کر سکتے ہیں۔ اور اس جملے میں ہر چیز واضح ہو جاتی ہے ۔ ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں کرپشن اور حرام خوری اتنی بڑھ چکی ہے کہ ریکارڈ پر کچھ بھی نہیں لایا جاتا البتہ اندر خانے سب چلتاہے اور گزشتہ کئی سال سے ایم ڈی اے افسران اور لینڈ مافیا کے درمیان’’ خوش کرو اور خوش رہو‘‘ کا معاہدہ چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور دراز کے علاقوں سے لوگ ملتان آکر ’’ خوشی خوشی‘‘ ٹائون بناتے ہیں۔ اندر خانے افسران اور عملے کی خوشی کا خیال رکھتے ہیں ۔ شہریوں سے اربوں کھربوں لوٹتے ہیں اور پھر فرار ہو جاتے ہیں۔ ایم ڈی کی تمام تر کارروائیاں محض ویب سائٹ پر اپ لوڈنگ تک ہی محدود ہیں جس کی وجہ سے ملتان شہر کے گرد و نواح میں 196 غیر قانونی کالونیاں سالہا سال سے لوگوں کو اربوں، کھربوں روپوں سے محروم کر رہی ہیں۔ اس ادار ے کی طرف سے غیر قانونی کالونیوں میں سے 25 کالونیاں ایسی ہیں جو کہ بے نامی ہیں اور ا سکے مالکان بارے علم ہونے کے باجوود ایم ڈی اے کوئی کارروائی نہیں کرر ہا۔ بتایا گیا ہے کہ غیر منظور شدہ کالونیوں سے تمام تر آمدن ایم ڈی اے افسران کی جیب میں جاتی ہے جو اربوں روپے ہے جبکہ سرکاری کھاتے میں ایک روپیہ بھی نہیں جاتا اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 3 سال سے ایم ڈی اے نے ایک بھی پرائیویٹ سکیم کو پاس نہیں کیا کیونکہ پاس کرنے کی صورت میں تو رقوم سرکاری کھاتے میں چلی جاتی ہیں ۔ ایم ڈی اے کے لیگل ونگ کی اکلوتی ذمہ داری لینڈ مافیا کی ملی بھگت سے عدالتوں سے حکم امتناعی کروا کر خاموشی اختیارکرنا ہے اور اس خاموشی سے حکومت کو اربوں روپے کا سالانہ نقصان ہوتا ہے۔ ایم ڈی اے کے دفاتر میں سینکڑوں فائلیں منظوری کی منتظر ہیں اور لینڈ مافیا یہ کہہ کر کہ ہم نے ایم ڈی اے کودرخواست دے رکھی ہے اور پراسس شروع ہے۔ اور بس پھر ایم ڈی اے افسران اور لینڈ مافیا باہمی افہام و تفہیم سے منظم واردات ڈال رہے ہیں جو کہ گزشتہ کئی سال سے جاری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں