ملتان میں لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر کی مبینہ سرپرستی میں یونین کونسلز میں سنگین مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق 25 سے زائد یونین کونسلز میں سرکاری افسران کے بجائے پرائیویٹ ٹاؤٹوں کو غیر قانونی طور پر اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، جو شہریوں سے سرکاری کاموں کے نام پر بھاری رقوم وصول کر رہے ہیں۔
یونین کونسلز میں پیدائش، وفات، نکاح اور طلاق کے سرٹیفکیٹس کے اجراء کے عمل میں ماہانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونین کونسلز کے ریکارڈ کی جانچ کے لیے فیس 10 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے بھی شہریوں سے ہزاروں روپے رشوت لی جا رہی ہے۔
یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ملتان ظہور بھٹہ اور سابق ڈپٹی ڈائریکٹر مسرت بی بی کے درمیان گٹھ جوڑ کے نتیجے میں یونین کونسلز میں ہونے والی کرپشن کو منظم انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان افسران نے مختلف یونین کونسلز سے ماہانہ رشوت کی مخصوص رقوم مقرر کر رکھی ہیں اور انکوائری ختم کرانے کے لیے بھی الگ سے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یونین کونسل کے سیکرٹری رشوت لینے کو اپنا حق سمجھنے لگے ہیں۔ ملتان کے رہائشی محمد ارسلان اور آصف ابوبکر کے مطابق جب انہوں نے برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے لیے رشوت دینے سے انکار کیا تو انہیں سرٹیفکیٹس دینے سے انکار کر دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ رقوم ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کی جانب سے مقرر کردہ ہیں۔ اگر رشوت نہ دی جائے تو یونین کونسلز کے آن لائن سسٹم کو بند کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہری مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کرپشن کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث شہری سخت پریشان ہیں اور حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شہریوں نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور بدعنوان افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کرپشن کے باعث نہ صرف شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ سرکاری خزانے کو بھی شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اس معاملے کی انکوائری پہلے ہی زیر سماعت ہے، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت ان بدعنوان عناصر کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھاتی ہے یا یہ گٹھ جوڑ اسی طرح جاری رہے گا۔






