ملتان( وقائع نگار)ڈینگی کی وبا ملتان میں کنٹرول سے باہر ہوگئی اور انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج جبکہ افسران محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ افسران کے گھروں اور دفاتر میں روزانہ کے حساب سے سپرے ہورہے ہیںجبکہ ملتان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ڈینگی کا شکار ہوچکے ہیں،شادی شدہ خاتون جاں بحق ہوگئی، صورتحال یہ ہےکہ سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ نجی ہسپتالوں حتیٰ کہ کلینکس میں بھی کرسیوں پر مریض ڈرپس لگوارہے ہیں۔ ملتان کی لیبارٹریاں ڈینگی کے ٹیسٹ کروانے والے مریضوں سے بھری پڑی ہیں اور صورتحال اس قدر بے قابو ہو چکی ہے کہ انتظامیہ اور محکمہ صحت نے اس کا یہ حل نکالا ہے کہ ڈینگی سے ہونے والی اموات کو چھپایا جارہا ہےاور وجہ موت ڈینگی کے علاوہ دیگر امراض لکھ کر صورتحال پر پردہ ڈالا جارہا ہے۔ اس وقت ملتان میں تعینات سی او ہیلتھ ثوبان ضیا جنہیں مبینہ طورپر محکمہ صحت کے پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر کی مکمل سرپرستی حاصل ہونے کا دعویٰ ہے کے دفتر کے سامنے ڈینگی سکواڈ کے ورکرز کئی ماہ تک تنخواہوں کے حصول کے لیے احتجاج کرتے رہے مگر ان کی شنوائی نہ ہوئی مگر ملتان میں ڈینگی پھیلنے کے بعد بہت کم مقدار میں سپرے کیا جارہا ہے۔اس صورتحال کے حوالے سے ’’روزنامہ قوم‘‘ نے جو معلومات لیں انکے مطابق سرکاری ہسپتالوں ، پرائیویٹ ہسپتالوں اور نجی کلینکس میں ہر100میں سے70مریض صرف اور صرف ڈینگی کے آرہے ہیں جس کی وجہ سے ہسپتال مکمل طور پر پیک ہو چکے ہیں۔ اورمریضوں کوگلوکوزلگانے کیلئے بیڈبھی میسرنہیں بلکہ کرسیوں، وہیل چیئرز حتیٰ کے زمین پر چادریں بچھا کر مریضوں کو گلوکوز کی بوتلیں اورانجکشن لگائے جارہے ہیں اور درد کے مارے مریض تڑپ رہے ہیں۔ نشتر روڈ پر مکہ لیب کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ 1500سے زائد مریض ٹیسٹ کرانے آرہے ہیں جن میں سے ایک ہزار سے گیارہ سو صرف ڈینگی ہی کے ٹیسٹ کرائے جارہے ہیں ۔اس صورتحال کے حوالے سے ڈاکٹر عرفان حمید نے’’روزنامہ قوم‘‘ کو بتایا کہ ملتان میں ڈینگی بے قابو ہو چکا ہے اس لیے ہر شخص کو اپنے گھروں میں خود ہی مچھر مار سپرے کرانا لازمی ہے اور جس گھر میں بھی ڈینگی کا مریض ہے اسے مچھر دانی میں ہی رکھیں کیونکہ ڈینگی کے مریض کو عام مچھر نے بھی کاٹا تو وہ کسی بھی دوسرے فرد میں ڈینگی کے جراثیم منتقل کرنے کاسبب بن سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثرگھروں کے سارے افراد ہی ڈینگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان حمید نے بتایا کہ لازم ہے کہ ڈینگی کے مریض کسی بھی صورتحال بخار نہ چڑھنے دیا جائے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے حافظ جمال روڈ ملتان کی رہائشی نورین بی بی کو کچھ عرصہ قبل شدید بخار ہوا ۔جس کے ٹیسٹ کروائے گئے ۔تو اسکا ڈینگی بخار کا ٹیسٹ پازیٹو آیا ۔جس کے بعد مذکورہ خاتون کو نجی ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی غرض سے لیجایا گیا ۔مگر حالت بگڑنے کی وجہ سے وہ دم توڑ گئی ۔بتایا جارہا ہے اسی دوران فوت ہونے والی خاتون کے شوہر اور اسکے بیٹا بھی ڈینگی بخار سے متاثر ہوئے تھے ۔لیکن وہ اب مکمل صحت یاب ہیں ۔








