ملتان (وقائع نگار) ملتان ڈینگی وائرس کی لپیٹ میں جبکہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کوئی موثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی اس صورتحال میں نہ تو ڈینگی ورکرز موجود ہیں اور نہ ہی عوامی آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی انسداد ڈینگی سپرے کا کام جاری ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پچھلے سال عدالت کے واضح احکامات کے باوجود ان ورکرز کو بحال نہیں کیا گیاجس سے شہر بھر میں وائرس پھیلنے کا خطرہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ڈینگی کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے۔ ملتان میں ڈینگی ورکرز موجود ہی نہیں ہیں۔ نہ کوئی آگاہی مہم چل رہی ہے نہ گھروں اور عوامی مقامات پر سپرے کا کوئی سلسلہ ہے۔ یہ تو واضح لاپروائی ہےجو شہریوں کی صحت کو داؤ پر لگا رہی ہے۔یہ صورتحال اس وقت مزید تشویش ناک ہو گئی جب پچھلے سال یعنی 2024 میںڈینگی ورکرز کو اچانک نوکریوں سے نکال دیا گیا تھا۔ عدالت نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیل پر واضح حکم دیا تھا کہ انہیں فوری طور پر بحال کیا جائے مگر افسوس کہ ایک سال گزرنے کے باوجود عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا نتیجتاًملتان جیسے شہر میں جہاں موسمی حالات ڈینگی کے پھیلاؤ کے لیے سازگار رہتے ہیں کوئی نگرانی کا نظام موجود نہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند ہفتوں میں کیسز کی تعداد ہزاروں میں پہنچ سکتی ہے جس سے ہیلتھ سسٹم پر بھاری دباؤ پڑے گا۔اس معاملے پر شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ایک سماجی کارکن نے کہا، ڈویژنل کمشنر ملتان کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ عدالت کا حکم نظر انداز کرنا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ عوام کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ورکرز کو بحال کیا جائے، آگاہی کمپین شروع کی جائے اور شہر بھر میں انسداد ڈینگی مہم کو رفتار دی جائے۔ سول سوسائٹی اور صحت کے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ کمشنر صاحب 48 گھنٹوں میں اس معاملے کا نوٹس لیں اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی یقینی بنائیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو شہری مزاحمت کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ملتان آج صحت کے بحران سے گھرا ہوا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اسے سنبھالے ورنہ عوامی صحت کی حفاظت کا دعویٰ محض کاغذی کارروائی ثابت ہو جائے گا۔







