جنوبی پنجاب کا دل کہلانے والا شہر ملتان آج پینے کے صاف پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے نصب کیے گئے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بندش نہ صرف انتظامی ناکامی کا ثبوت ہے بلکہ عوامی وسائل کے ضیاع کی ایک افسوسناک مثال بھی ہے۔ شہری بوند بوند کو ترس رہے ہیں، جبکہ وہ منصوبے جن کا افتتاح بڑے دعووں اور تشہیر کے ساتھ کیا گیا تھا، چند ہی ماہ بعد غیر فعال ہو کر کھنڈر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔شہر کے مختلف علاقوں چاہ بوہڑ والا، عید گاہ کینٹ کے اطراف، طبی شیر خاں، واٹر ورکس روڈ، حسن پروانہ اور نیب النسا پارک شامل ہیں، فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں۔ کئی مقامات پر بجلی کے کنکشن عدم ادائیگی کے باعث منقطع ہیں، فلٹرز کی تبدیلی کا کوئی نظام موجود نہیں اور دیکھ بھال کے نام پر مکمل خاموشی ہے۔ پلانٹس کے گرد گندگی کے ڈھیر اور ٹوٹے تالے اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ نگرانی اور احتساب کا مؤثر ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہیں۔
صاف پانی بنیادی انسانی حق ہے، نہ کہ کوئی سیاسی نعرہ۔ جب شہری مہنگا منرل واٹر خریدنے پر مجبور ہوں یا آلودہ نلکوں کا پانی استعمال کریں تو یہ ریاستی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور معدے کی دیگر بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یوں یہ بحران صرف سہولتوں کی کمی نہیں بلکہ عوامی صحت کے لیے ایک خاموش خطرہ بن چکا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ اگر ان منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے تو وہ رقم کہاں گئی؟ کیا فنڈز کا درست استعمال ہوا؟ کیا باقاعدہ آڈٹ اور نگرانی کا نظام موجود تھا؟ اگر دیکھ بھال اور مرمت کے لیے بجٹ مختص تھا تو پھر پلانٹس غیر فعال کیوں ہیں؟ ان سوالات کا جواب دینا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی، جو عوامی اعتماد کو مزید مجروح کر رہی ہے۔ترقیاتی منصوبوں کا المیہ یہی رہا ہے کہ افتتاح کے بعد انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پائیدار منصوبہ بندی، باقاعدہ دیکھ بھال اور شفاف احتساب کے بغیر کوئی بھی اسکیم دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بند فلٹریشن پلانٹس کو فوری طور پر فعال کیا جائے، ان کی تکنیکی جانچ پڑتال کی جائے اور مستقل بنیادوں پر دیکھ بھال کا نظام قائم کیا جائے۔ساتھ ہی ایک آزاد اور شفاف تحقیقات کے ذریعے یہ تعین کیا جائے کہ غفلت یا بدعنوانی کہاں ہوئی۔ اگر واقعی عوامی وسائل ضائع ہوئے ہیں تو ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ محض بیانات اور یقین دہانیاں اس بحران کا حل نہیں۔ملتان کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جب تک عملی اقدامات کے ذریعے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا، تب تک عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکے گا۔ صاف پانی کی فراہمی کو سیاسی تشہیر سے نکال کر سنجیدہ حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا، ورنہ یہ بحران صحت، معیشت اور سماجی استحکام تینوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا رہے گا۔







