ملتان (زین العابدین سے)ملتان میں سستے پلیٹرز کے نام پر شہریوں کی صحت کے ساتھ خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ شہر کے مختلف مقامات پر فروخت ہونے والے1000،1500 اور 2000 روپے تک کے پلیٹرز نے فوڈ پوائزننگ اور دیگر مہلک بیماریوں کو عام کر دیا ہے، جبکہ فوڈ اتھارٹی کی مجرمانہ غفلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایم ڈی اے چوک، کینٹ، خونی برج، چونگی نمبر14، ماڈل ٹاؤن، گلگشتب اور دیگر علاقوں میں جگہ جگہ ایسے فُٹ پاتھ ریسٹورنٹس اور ڈھابے کھلے ہیں جہاں انتہائی کم قیمت پر پلیٹرز دستیاب ہیں۔ ایک پلیٹر میں مچھلی، چکن کی مختلف ڈشیں، کولڈ ڈرنکس، روٹیاں اور دیگر آئٹمز شامل کیے جاتے ہیں۔شہری حیران ہیں کہ اتنی کم قیمت میں اتنی زیادہ چیزیں کیسے ممکن ہیں؟ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ ان سستے پلیٹرز میں استعمال ہونے والا گندا تیل، باسی گوشت، مضرِ صحت مصالحے اور غیر معیاری کولڈ ڈرنکس شہریوں کو بیمار کر رہے ہیں۔ نشترہسپتال اور دیگر سرکاری ہسپتالوں میں فوڈ پوائزننگ کے درجنوں مریض روزانہ لائے جا رہے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ایک شہری نے بتایا کہ “ہم نے چونگی نمبر14 سے پلیٹر خریدا، اگلے ہی دن بچے اور بیوی کو الٹی، بخار اور پیٹ درد شروع ہوگیا، ڈاکٹر نے کہا فوڈ پوائزننگ ہے۔” اسی طرح ماڈل ٹاؤن کے ایک نوجوان نے شکایت کی کہ “یہ دکاندار باسی تیل میں بار بار تلنے والی چیزیں بیچ رہے ہیں، کسی کو پروا نہیں۔”شہریوں کا کہنا ہے کہ جگہ جگہ مضرِ صحت کھانا فروخت ہو رہا ہے مگر کسی قسم کی چیکنگ یا کارروائی نظر نہیں آتی۔دکانداروں کے پاس لائسنس ہیں نہ صفائی کے انتظامات۔طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے غیر معیاری کھانے نہ صرف فوڈ پوائزننگ بلکہ ہیپاٹائٹس، ٹائیفائیڈ، گیسٹرو اور دیگر خطرناک امراض کا باعث بن رہے ہیں۔شہریوں نے حکومتِ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایسے سستے پلیٹرز فروخت کرنے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے، فوڈ اتھارٹی کے افسران سے بازپرس کی جائے اور غیر معیاری کھانے کے مراکز کو فوری سیل کیا جائے تاکہ مزید قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔







